ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / منی پور تشدد: 3 سال میں 306 افراد ہلاک، 49 لاپتہ؛ حکومت نے جاری کیے اعداد و شمار

منی پور تشدد: 3 سال میں 306 افراد ہلاک، 49 لاپتہ؛ حکومت نے جاری کیے اعداد و شمار

Thu, 03 Sep 2026 17:08:21    S O News

منی پور  ،  3/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)منی پور میں طویل عرصہ سے جاری تشدد نے اب تک سینکڑوں جانیں لے لی ہیں اور کئی افراد لاپتہ ہیں۔ اس سلسلے میں آج منی پور کے وزیر داخلہ گووند داس کونتھوجم نے اسمبلی میں کچھ اہم جانکاریاں سامنے رکھیں۔ انھوں نے بتایا کہ 2023 میں برپا ہوئے نسلی تشدد میں کم از کم 306 لوگ مارے گئے اور 49 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ میتئی اور کوکی طبقات کے درمیان تشدد کا آغاز 3 مئی 2023 کو ہوا تھا۔ یہ تشدد پہاڑی ضلعوں میں ’قبائلی یکجہتی مارچ‘ منعقد ہونے کے بعد شروع ہوا، جو میتئی طبقہ کی ’درج فہرست قبائل‘ کا درجہ پانے کے مطالبہ کی مخالفت میں نکالا گیا تھا۔ اس کے بعد سے نسلی تشدد وقفہ وقفہ پر دیکھنے کو ملا اور اب بھی کئی بار آگ زنی جیسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔

3 ستمبر کو منی پور اسمبلی اجلاس کے دوسرے دن بی جے پی رکن اسمبلی سپم رنجن سنگھ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کونتھوجم نے کہا کہ ’’3 مئی 2023 کو تشدد شروع ہونے کے بعد سے 306 لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور 31 اگست 2026 تک 49 افراد لاپتہ ہیں۔‘‘ تشدد کو دیکھتے ہوئے ریاست میں گزشتہ سال 13 فروری کو صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل مہینوں تک چلے نسلی تشدد کے بعد 9 فروری کو بیرین سنگھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے استعفیٰ دیا تھا۔ رواں سال صدر راج ہٹا لیا گیا اور اس کے کچھ گھنٹوں بعد بی جے پی لیڈر وائی کھیم چند سنگھ کی وزیر اعلیٰ کے طور پر تقرری ہوئی اور نئی حکومت تشکیل دی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ منی پور کی آبادی میں میتئی کی شراکت داری تقریباً 53 فیصد ہے۔ وہ خاص طور سے امپھال وادی میں رہتے ہیں، جبکہ قبائلی (جن میں ناگا اور کوکی شامل ہیں) 40 فیصد ہیں۔ وہ خاص طور سے پہاڑی ضلعوں میں رہتے ہیں۔


Share: