ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / امیت شاہ کی تقریبات میں مسلم افسران کو نظرانداز کرنے کا الزام، مہوا موئترا برہم

امیت شاہ کی تقریبات میں مسلم افسران کو نظرانداز کرنے کا الزام، مہوا موئترا برہم

Wed, 02 Sep 2026 19:12:18    S O News

نئی دہلی ، 2/ ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی )ترنمول کانگریس (TMC) کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ مغربی بنگال میں مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی سرکاری تقاریب سے مسلم آئی اے ایس  اور آئی پی ایس افسران کو دور رکھا گیاہے۔ انہوں نے اسے’زہریلی اور پست فرقہ وارانہ ذہنیت‘ قرار دیتے ہوئے آئی اے ایس اور آئی پی ایس اسوسی ایشنز کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مہوا موئترا نے سلی گوڑی کے پولیس کمشنر وقار رضا کا نام لیتے ہوئے کہاکہ امیت شاہ کی آمد پر انہیں استقبالیہ صف سے ہٹا دیا گیاہے۔ جبکہ ریاست کے اسپیشل ٹاسک فورس (STF) کے ڈی جی جاوید شمیم کو مرکزی وزیر کی تقاریب میں مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سینئر آئی اے ایس افسر خلیل احمد کو ایک میٹنگ سے باہر جانے کیلئے کہا گیا۔

مہوا موئترا نے آئی پی ایس اور آئی اے ایس اسوسی ایشنز کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا’’امیت شاہ کی موجودگی میں مغربی بنگال کے مسلم افسران کو ان کی تقاریب سے شامل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ سلی گوڑی کے پولیس کمشنر وقار رضا کو استقبالیہ لائن سے ہٹا دیا گیا، ایس ٹی ایف کے ڈی جی جاوید شمیم کو کہیں نہیں بلایا گیا اور آئی اے ایس خلیل احمد کوایک میٹنگ سے باہر بھیج دیا گیا۔ کیا آپ اس زہریلی فرقہ وارانہ حرکت کے خلاف احتجاج نہیں کریں گے؟‘‘سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ صارفین نے آئی اے ایس اور آئی پی ایس اسوسی ایشنز پر تنقید کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ ملک کے آئین کے پابند ہیں یا کسی ’ہندو راشٹر‘ کے؟ لوگوں نے مسلم افسران کے ساتھ اس تفریق کو’شرمناک‘ اور’زہریلی مذہبی تفریق‘ قرار دیا ہے۔

یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کی مسلمانوں سے متعلق پالیسیوں کو لے کر اپوزیشن اور اقلیتی تنظیمیں مسلسل تنقید کر رہی ہیں۔ حکومت کی ۴۱؍رکنی کابینہ میں ایک بھی مسلم نمائندہ شامل نہیں ہے جبکہ اسمبلی نے دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کی فہرست میں ترمیم کرکے ۷۷؍ایسی برادریوں کو فہرست سے باہر کر دیا ہے جن کی شناخت مسلم تھی۔ حکومت نے جون ۲۰۲۶ء سے ائمہ اور مؤذنین کو دیا جانے والا مذہبی وظیفہ (Honorarium) بند کر دیا ہے، جبکہ اقلیتی اسکیموں اور شعبوں کے فنڈز میں بھی کٹوتی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ جانوروں کی قربانی کے سخت قوانین، سڑکوں پر نماز پڑھنے پر پابندی اور غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کے خلاف حکومت کی ’شناخت کرو، نام ہٹاؤ اور نکال باہر کرو‘ (Detect, Delete, Deport) کی مہم پر بھی اپوزیشن اور اقلیتی تنظیموں نے سخت اعتراض جتایا ہے۔

ایک الگ معاملے میں، کولکاتا کی جوتی نگر کالونی کے رہائشیوں نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کی وجہ سے ان کی پانی کی سپلائی کاٹ دی گئی۔ ان کے مطابق مقامی بی جے پی ایم ایل اے رتیش تیواری نے ان سے کہا کہ یہ اقدام بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کا بدلہ ہے۔ اس معاملے کو لے کر مقامی لوگوں نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ 


Share: