بنگلورو ، 4/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے متعدد معاملات سامنے آنے لگے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے 27 اکتوبر 2026 کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ نظرثانی کا عمل پوری شفافیت اور احتیاط کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے اور کسی بھی اہل ووٹر کا نام فہرست سے خارج نہیں ہوا ہے۔ تاہم، حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد سامنے آنے والے مختلف معاملات نے انتخابی عمل کی شفافیت اور اس کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
آلٹ نیوز کے شریک بانی اور معروف فیکٹ چیکر محمد زبیر نے دستاویزی شواہد کے ساتھ ایس آئی آر کے دوران سامنے آنے والی مبینہ خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر انبوکمار اور الیکشن کمیشن سے متعدد سوالات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ہی شخص کے نام پر متعدد ووٹر شناختی کارڈ جاری ہونے، دو ریاستوں میں ووٹر کی حیثیت برقرار رہنے، زندہ افراد کو مردہ قرار دینے اور ووٹر لسٹ میں ناقابل فہم اندراجات جیسے معاملات انتخابی نظرثانی کے عمل پر سوالیہ نشان ہیں۔ ان الزامات پر ریاستی انتخابی حکام کی جانب سے تاحال کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
محمد زبیر نے 27 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انکشاف کیا کہ بی جے پی سے وابستہ ادئے کمار اور ان کی اہلیہ بندو کماری کے نام کرناٹک اور بہار دونوں ریاستوں کی ووٹر فہرستوں میں موجود ہیں۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق ادئے کمار کا نام بنگلورو کے ہیبال اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ میں درج ہے، جہاں ان کا ای پی آئی سی نمبر SOH4526935 بتایا گیا ہے۔ ان کا پولنگ اسٹیشن آل وِن پبلک اسکول درج ہے۔ دوسری جانب بہار کے ضلع نوادہ کے ہسوا اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ میں بھی ان کا نام موجود ہے، جہاں ان کا ای پی آئی سی نمبر UAO0928291 درج ہے اور پولنگ اسٹیشن کے طور پر بیروٹا ویسٹ کے اپ گریڈڈ مڈل اسکول کا نام درج ہے۔
زبیر کے مطابق ادئے کمار کی اہلیہ بندو کماری کے نام بھی دونوں ریاستوں کی ووٹر فہرستوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے دونوں ریکارڈ میں درج تصاویر کو ایک ہی شخص سے متعلق قرار دیتے ہوئے والد کے نام اور عمر میں پائے جانے والے فرق کی بھی نشاندہی کی ہے۔
زبیر نے دعویٰ کیا کہ ادئے کمار نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بنگلورو میں ووٹ دیا تھا، جبکہ 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات میں نوادہ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر بھی ووٹ ڈالنے کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر، بنگلورو کے ڈپٹی کمشنر، نوادہ کے ڈپٹی کمشنر اور الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایک شخص کے پاس دو الگ الگ ای پی آئی سی نمبر اور دو ریاستوں میں ووٹر کی حیثیت کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟
ان کے مطابق بہار اور کرناٹک دونوں ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہونے کے باوجود اس طرح کے اندراجات برقرار رہنا انتخابی نظرثانی کے دعوؤں کی جانچ کا متقاضی ہے۔ تاہم، اس معاملے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
محمد زبیر نے بنگلورو ساؤتھ اسمبلی حلقہ کے ووٹر ابھیشیک کے این کا معاملہ بھی اٹھایا ہے، جن کے نام پر مبینہ طور پر چار ووٹر شناختی کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔
زبیر کے مطابق ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ابھیشیک کا نام موجود نہیں تھا، جس کے بعد انہوں نے ایک ہی دن میں چار مرتبہ فارم 6 کے ذریعے اندراج کی درخواست دی۔ ان درخواستوں کے نتیجے میں ان کے نام پر چار الگ الگ ای پی آئی سی نمبر جاری ہوگئے۔
زبیر نے سوال کیا کہ ایک ہی شخص کی جانب سے جمع کرائی گئی متعدد درخواستوں کی شناخت اور جانچ کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے؟ جب ایک ہی شخص کی چار درخواستیں جمع ہوئیں تو انہیں روکنے یا ان کی تصدیق کرنے کا طریقہ کار کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ نقلی اندراجات ختم کرنے کے لیے شروع کیے گئے عمل کے دوران ایک ہی شخص کے نام متعدد ووٹر شناختی کارڈ کیسے تیار ہوگئے؟
اسی نوعیت کا ایک اور معاملہ مہادیوپورہ اسمبلی حلقہ کے ووٹر سنتوش کمار سے متعلق ہے۔ زبیر کے مطابق سنتوش کمار نے ووٹر لسٹ میں نام شامل کروانے کے لیے فارم 6 کے ذریعے دو درخواستیں جمع کرائی تھیں، لیکن ان کے نام پر پانچ الگ الگ ووٹر شناختی کارڈ جاری ہوگئے۔
زبیر کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے بعد شائع ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں سنتوش کمار کا نام موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد انہوں نے نئے سرے سے اندراج کے لیے دو درخواستیں جمع کرائیں، لیکن انتخابی حکام کی جانب سے ان کے نام پر پانچ الگ الگ شناختی کارڈ جاری کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص کی دو درخواستوں کے نتیجے میں پانچ ووٹر شناختی کارڈ جاری ہوسکتے ہیں تو ریاست بھر میں اس طرح کے مزید کتنے معاملات موجود ہوں گے؟ ان کے مطابق اس سلسلے میں منظم جانچ کی جائے تو کرناٹک میں ایسے متعدد معاملات سامنے آسکتے ہیں۔
زبیر نے یہ بھی یاد دلایا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران ایک لاکھ سے زائد ووٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام اسی اسمبلی حلقہ سے متعلق لگایا تھا۔
حتمی ووٹر لسٹ میں غیر معمولی اور ناقابل فہم اندراجات کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ انگریزی روزنامہ دی ہندو نے 2 نومبر کو شائع کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بنگلورو کی حتمی ووٹر لسٹ میں کم از کم ایک ہزار اندراجات میں مختلف نوعیت کی خامیاں پائی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض ووٹروں کے ناموں کی جگہ XXX، سوالیہ نشانات، محض ایک حرف، ای میل آئی ڈی اور تین نقطوں جیسے غیر معمولی اندراجات موجود ہیں۔ بعض مقامات پر رشتہ داروں کے نام بھی غائب پائے گئے ہیں۔
محمد زبیر نے ان اندراجات پر چیف الیکٹورل آفیسر سے سوال کیا کہ اگر یہ حتمی اور تصدیق شدہ ووٹر لسٹ ہے تو اس میں اس طرح کی غلطیاں کیسے باقی رہ گئیں؟ انہوں نے ذمہ دار حکام کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ایس آئی آر کے دوران سامنے آنے والی ایک انتہائی سنگین مبینہ غلطی بنگلورو کے راجاراجیشوری نگر اسمبلی حلقہ کی 27 سالہ ووٹر ارچنا سے متعلق ہے۔ محمد زبیر کے مطابق ارچنا کو انتخابی ریکارڈ میں فوت شدہ قرار دیتے ہوئے اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں شامل کردیا گیا تھا، حالانکہ وہ زندہ ہیں اور انہوں نے اپنا نام ووٹر لسٹ میں شامل کروانے کے لیے فارم 6 بھی جمع کرایا تھا۔ اب ان کا نام حتمی ووٹر لسٹ میں موجود ہے۔
اس معاملے پر زبیر نے انتخابی حکام سے سوال کیا ہے کہ کسی ووٹر کو فوت شدہ قرار دینے سے پہلے کیا اس کا موت کا سرٹیفکیٹ حاصل اور اس کی تصدیق کی گئی تھی؟ کیا متعلقہ رجسٹرار آف برتھس اینڈ ڈیتھس سے اس کی موت کی تصدیق کروائی گئی؟ کیا بوتھ لیول آفیسر نے متعلقہ خاتون کے گھر جاکر حقیقت کی جانچ کی تھی؟ اور آخر کس شخص کی اطلاع پر انہیں مردہ قرار دیا گیا؟
انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اس فیصلے کی منظوری کس افسر نے دی اور کیا اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر یا الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر نے اس کی جانچ کی تھی؟
زبیر نے مطالبہ کیا ہے کہ کرناٹک بھر میں ان تمام ووٹروں کے معاملات کا خصوصی آڈٹ کیا جائے جنہیں مردہ قرار دے کر فہرست سے خارج کیا گیا ہے، بالخصوص 40 سال سے کم عمر کے افراد کے اندراجات کی دوبارہ جانچ کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی زندہ شہری کو انتخابی حکام کی غلطی کے باعث دوبارہ ووٹر بننے کے لیے درخواست دینے کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔
انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں سینکڑوں ایسی خواتین موجود ہیں جن کے نام ارچنا ہیں اور انہیں بھی مردہ قرار دیا گیا ہے۔ ایسے تمام معاملات کی حقیقت سامنے لانا انتخابی کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
بنگلورو ساؤتھ اسمبلی حلقہ کی 50 سالہ خاتون جیوتی این کے نام پر پانچ ووٹر شناختی کارڈ جاری ہونے کا معاملہ بھی زبیر نے اجاگر کیا ہے۔
ان کے مطابق جیوتی کا نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں تھا۔ نام درج کروانے کے لیے انہوں نے فارم 6 کے ذریعے تین مرتبہ درخواست دی، لیکن ان کے نام پر مجموعی طور پر پانچ الگ الگ ووٹر شناختی کارڈ جاری ہوگئے۔
زبیر نے اس معاملے کو انتخابی نظام کی سنگین خامی قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ متعدد درخواستوں کی جانچ اور ایک ہی شخص کی شناخت کی تصدیق کے لیے اختیار کردہ نظام کس حد تک مؤثر ہے؟
بنگلورو کے ووٹر راکیش کمار داس کا معاملہ بھی انتخابی فہرستوں کی جانچ پر سوال اٹھاتا ہے۔ زبیر کے مطابق ایس آئی آر سے قبل راکیش کمار داس کا نام ڈی 2004 مکان نمبر کے پتے پر ووٹر کے طور پر درج تھا، لیکن ایس آئی آر کے دوران انہیں مستقل طور پر منتقل ہونے والا قرار دے کر ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کردیا گیا تھا۔
تاہم، حتمی ووٹر لسٹ میں ان کا نام اسی مکان نمبر اور پتے کے ساتھ دو مرتبہ درج پایا گیا، جبکہ دونوں اندراجات کے لیے الگ الگ ای پی آئی سی نمبر جاری کیے گئے ہیں۔
زبیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے فارم 6 کے ذریعے نئے اندراجات کی فہرستوں میں بھی راکیش کمار داس کا نام تلاش کیا، لیکن وہاں ان کا نام نہیں ملا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جس شخص کو مستقل طور پر منتقل ہونے کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے خارج کیا گیا تھا، اس کا نام حتمی فہرست میں اسی پتے پر دو مختلف شناختی نمبروں کے ساتھ کیسے شامل ہوگیا؟
کرناٹک میں ایس آئی آر کے خلاف سرگرم تنظیمیں اور جمہوری حقوق کے کارکن ابتدا ہی سے انتخابی فہرستوں میں ممکنہ بے ضابطگیوں اور اہل ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ ایس آئی آر مخالف اتحاد نے ریاست کے تقریباً 73 پولنگ اسٹیشنوں میں سروے کرتے ہوئے ایسے اہل ووٹروں کی تفصیلات اور دستاویزی شواہد جمع کیے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ اپنے حق رائے دہی سے محروم ہوگئے ہیں۔
اتحاد کی جانب سے متعدد مرتبہ الیکشن کمیشن کے سامنے یہ معاملات اٹھائے گئے، تاہم بعض مواقع پر انتخابی حکام نے وضاحت پیش کی جبکہ کئی اہم سوالات پر خاموشی اختیار کی گئی۔
اس دوران فارم 7 کے مبینہ غلط اور اجتماعی استعمال کے ذریعے اہل ووٹروں کے نام حذف کروانے کی کوششوں کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ وجئے پورہ کے سابق بی جے پی رکن اسمبلی بسون گوڑا پاٹل یتنال، بیلگاوی ساؤتھ کے بی جے پی رکن اسمبلی ابھیے پاٹل اور بعض بی جے پی کارکنوں کی جانب سے فارم 7 جمع کرانے کے معاملات پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ تاہم، ان الزامات پر بھی مؤثر کارروائی کے حوالے سے واضح صورت حال سامنے نہیں آئی ہے۔
محمد زبیر کی جانب سے دستاویزی شواہد کے ساتھ سامنے لائے گئے حالیہ معاملات نے ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹوں کی تصدیق اور ان کی درستگی کے سرکاری دعوؤں کو مزید جانچ کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایک ہی شخص کے نام متعدد ووٹر شناختی کارڈ، دو ریاستوں میں ووٹر کے طور پر اندراج، زندہ شہری کو مردہ قرار دینا اور ناقابل فہم ناموں کا حتمی فہرست میں موجود ہونا ایسے معاملات ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔
الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹوں کو مکمل طور پر درست اور شفاف قرار دیا تھا، لیکن اب سامنے آنے والے ان انکشافات کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر یہ تمام اندراجات درست ہیں تو ان کی حقیقت کیا ہے، اور اگر ان میں غلطیاں موجود ہیں تو ان کے ذمہ دار کون ہیں؟ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر انبوکمار اور الیکشن کمیشن کو ان تمام معاملات پر واضح جواب دینا ہوگا۔