ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بڑی راحت، 38 کمروں کے انہدام پر روک برقرار

محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بڑی راحت، 38 کمروں کے انہدام پر روک برقرار

Tue, 04 Aug 2026 11:38:46    S O News

مرادآباد   ، 4/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)محمد علی جوہر یونیورسٹی کے 38 کمروں کو منہدم کرنے سے متعلق معاملے میں یونیورسٹی انتظامیہ کو فی الحال راحت مل گئی ہے۔ پیر (3 اگست) کو مرادآباد کے ڈویژنل کمشنر آنجنیہ کمار سنگھ کی عدالت میں اس معاملے کی سماعت ہوئی۔ تقریباً 2 گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران فریقین نے اپنے اپنے قانونی دلائل عدالت کے سامنے پیش کیے اور مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث کی۔

رپورٹ کے مطابق سماعت کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پیروی کر رہے وکیل جنید اعجاز نے بتایا کہ ڈویژنل کمشنر کورٹ نے مسمار کرنے کے حکم پر پہلے سے لگی روک کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عدالت میں دائر اپیل زیر التوا رہے گی اور اس پر حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، تب تک رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی یونیورسٹی کے 38 کمروں کے خلاف مسمار کرنے کی کوئی کارروائی نہیں کر سکے گی۔

وکیل جنید اعجاز نے بتایا کہ سماعت کے دوران فریقین کی جانب سے کیس کے کئی قانونی پہلوؤں پر تفصیلی بحث ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اپیل کرنا ہر فریق کا قانونی حق ہے اور اس معاملے میں بھی اسی حق کا استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے قائم کردہ اصولوں کے مطابق جب کسی معاملے میں اپیل زیر التوا ہو تب تک مسمار کرنے جیسی کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے مسمار کرنے کے حکم پر لگی روک کو برقرار رکھا ہے۔

جنید اعجاز کے مطابق اب اس معاملے میں اگلی سماعت کی تاریخ عدالت کی طرف سے طے کی جائے گی۔ فی الحال جب تک اپیل پر حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، تب تک جوہر یونیورسٹی کے 38 کمروں کے خلاف کسی قسم کی مسمار کرنے کی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ڈویژنل کمشنر کورٹ کے اس حکم کے بعد فی الحال یونیورسٹی کے 38 کمروں کو مسمار کرنے کی کارروائی رکی رہے گی۔ اب سب کی نظریں کیس کی اگلی سماعت اور عدالت کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں۔


Share: