نئی دہلی 23 جولائی (ایس او نیوز) گزشتہ روز نئی دہلی میں طلبہ کی احتجاجی ریلی کے دوران سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر نے ایک اہم قانونی اور آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔ متعدد ویڈیوز میں ایسے افراد کو لاٹھیاں اٹھائے احتجاجیوں کو مارتے اور مظاہرین کو منتشر کرتے دیکھا گیا جو پولیس کی سرکاری وردی میں نہیں تھے، بلکہ عام لباس میں تھے۔ بعض افراد نے چہروں کو بھی ڈھانپ رکھا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔ بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ افراد سادہ لباس میں تعینات پولیس اہلکار تھے یا کسی دوسری تنظیم یا سیاسی جماعت سے وابستہ افراد۔ تاہم دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیوز میں نظر آنے والے تمام افراد پولیس اہلکار تھے۔ سوشل میڈیا پر اب لوگ سوال کررہے ہیں کہ کیا ہندوستانی قانون، پولیس اہلکاروں کو احتجاج کے دوران اپنی شناخت چھپانے یا سادہ لباس میں طاقت استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
دہلی پولیس کا مؤقف:
دہلی پولیس نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ وائرل ویڈیوز میں نظر آنے والے سادہ لباس والے افراد عام شہری نہیں بلکہ پولیس اہلکار تھے، جنہیں امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق حساس حالات میں بعض اہلکاروں کو سادہ لباس میں بھی تعینات کیا جاتا ہے اور یہ قانون نافذ کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
کیا قانون اس کی اجازت دیتا ہے؟:
قانونی ماہرین کے مطابق دہلی پولیس ایکٹ یا اس سے متعلق عوامی طور پر دستیاب قواعد میں ایسی کوئی واضح شق سامنے نہیں آتی ،جو احتجاج یا ہجوم پر قابو پانے کے دوران پولیس اہلکاروں کو وردی نہ پہننے یا نام کی تختی (Name Badge) ہٹانے کی باقاعدہ اجازت دیتی ہو۔ قانون پولیس کو وردی کے استعمال اور اس کے ضابطے مرتب کرنے کا اختیار ضرور دیتا ہے، لیکن احتجاجی کارروائی کے دوران شناخت مخفی رکھنے کی کوئی صریح قانونی اجازت موجود نہیں دکھائی دیتی۔
شناخت اور جوابدہی کا اصول:
ہندوستانی آئینی ماہرین اور سابق پولیس افسران کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام میں پولیس کی کارروائی شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔ اگر کارروائی کرنے والے اہلکار کی شناخت ہی واضح نہ ہو تو بعد میں زیادتی، غیر ضروری طاقت کے استعمال یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی شکایات کی غیر جانبدارانہ جانچ مشکل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی جمہوری ممالک میں احتجاجی ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کے لیے شناختی نمبر یا نام نمایاں رکھنا ایک اہم اصول سمجھا جاتا ہے۔
سادہ لباس میں پولیس کب تعینات کی جاتی ہے؟:
سابق پولیس افسران کے مطابق سادہ لباس میں اہلکاروں کی تعیناتی نئی بات نہیں۔ ان کا استعمال عموماً خفیہ معلومات جمع کرنے، شرپسند عناصر کی نشاندہی اور گرفتاری، ہجوم میں گھل مل کر صورتِ حال کا جائزہ لینے اور اچانک بگڑتی ہوئی صورتحال میں اضافی نفری کے طور پر کیا جاتا ہے۔
البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خفیہ نگرانی اور براہِ راست لاٹھی چارج یا طاقت کے استعمال میں فرق ہے، اور یہی نکتہ حالیہ تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔
سپریم کورٹ کے رہنما اصول:
اگرچہ سپریم کورٹ نے احتجاج کے دوران سادہ لباس میں پولیس کی تعیناتی پر کوئی مخصوص فیصلہ نہیں دیا، تاہم مختلف فیصلوں میں پولیس کی کارروائی کو شفاف، متناسب اور جوابدہ رکھنے پر زور دیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن بھی طاقت کے استعمال میں شفافیت اور مناسب ریکارڈ رکھنے پر زور دیتا رہا ہے۔
حالیہ احتجاج میں تنازع کیوں پیدا ہوا؟:
دہلی میں طلبہ کی ریلی کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں سادہ لباس والے افراد کو مظاہرین پر لاٹھیاں برساتے دیکھا گیا۔ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اگر عام شہری اور پولیس اہلکار میں فرق ہی واضح نہ رہے تو عوام کیسے جان سکیں گے کہ طاقت استعمال کرنے والا کون ہے، اور اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہو تو اس کے خلاف شکایت کس بنیاد پر درج کی جائے گی؟ دوسری طرف پولیس کا مؤقف ہے کہ کارروائی مکمل طور پر قانونی تھی اور تمام اہلکار سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے۔
ماہرین کی رائے:
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین میں اس معاملے پر وضاحت کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ہر ایسے واقعے کے بعد نئی بحث جنم لیتی ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت یا پولیس فورس سادہ لباس میں اہلکار تعینات کرتی ہے تو ایسے اہلکاروں کی شناخت، اختیار اور جوابدہی کے بارے میں واضح ضابطے ہونا ضروری ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔ یہی معاملہ دہلی کے حالیہ طلبہ احتجاج کے بعد قومی سطح پر ایک اہم قانونی اور عوامی بحث کی شکل اختیار کر گیا ہے۔