ڈانڈیلی، 9 / جولائی (ایس آئی او) شہر کے پولیس تھانے سے وابستہ دو پولیس کانسٹیبلوں پر سوشیل میڈیا کے ذریعے فحش پیغامات بھیج کر ذہنی اور جنسی ہراسانی کے علاوہ کمرے پر بلانے کا الزام لگاتے ایک 18 سالہ لڑکی نے ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے پاس شکایت درج کروائی ہے ۔
متاثرہ لڑکی کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ڈانڈیلی ٹاون پولیس اسٹیشن کے جن دو کانسٹیبلوں کے خلاف کل رات کو کاروار لیڈیز پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان کی شناخت عمران اور مانتیش کے طور پر کی گئی ہے ۔
لڑکی نے اپنی شکایت میں بتایا ہے کہ 4 جولائی کو حادثہ کا شکار ہونے والے اپنے دوست سے ملنے اور اس کا موبائل فون حاصل کرنے کے لئے اپنی سہیلی کے ساتھ وہ ڈانڈیلی پولیس اسٹیشن میں گئی تھی ۔
لڑکی کا الزام ہے کہ اس موقع پر پولیس اسٹیشن کے حدود میں روک کر رکھی ہوئی موٹر بائک چھوڑنے کے پیسوں کی مانگ رکھی گئی اور رقم دینے کے بعد موٹر بائک چھوڑی گئی ۔ اس کے دو دن بعد پولیس اسٹیشن کے کاغذات میں موجود اس کے فون نمبر پر دو ملزمین میں سے ایک نے وہاٹس ایپ کے ذریعے اس سے رابطہ کیا ۔
لڑکی کا یہ بھی الزام ہے کہ 6 جولائی کی رات میں وہاٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغامات بھیجے گئے اور اسے کمرے پرآنے کے لئے کہا گیا ۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ ناشائستہ انداز میں بات چیت کی گئی ۔
متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کے والدین کے درمیان طلاق کے معاملے میں کانسٹیبل عمران سے جان پہچان ہوئی تھی ۔ اب وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے ۔ عمران مجھے انسٹاگرام پر فالو کرتا تھا اور پھر وہ انسٹا گرام پر فحش میسیج بھیجنے لگا ۔ اس کے بعد مانتیش نے بھی انسٹاگرام پر میسیج بھیجنا شروع کیا ۔ اس کے بعد میرے نمبر پر وہاٹس ایپ پر فحش میسیج بھیجتے ہوئے شہر کی ایک لاڈج کے کمرے میں آنے کے لئے کہا ۔
لڑکی مزید الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں ڈانڈیلی ٹاون پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر کو خبر دی گئی تو وہاں سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ اس لئے براہ راست ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کرکے ان کے پاس شکایت دی گئی ۔ اس کے بعد ضلع ایس پی دیپن کی ہدایت پر لیڈیز پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔
اس معاملے میں اگلی کارروائی کے لئے پولیس کی طرف سے تحقیقات شروع کی گئی ہے اور وہاٹس ایپ میسیجس، فون کال کی تفصیلات اور دیگر ڈیجیٹل ثبوتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔
خیال رہے کہ ابھی چند دن پہلے ہی ایک نابالغ لڑکی کو بھٹکل کے ایک ہوٹل میں لے جا کر اس کی عصمت کے الزام میں منکی پولیس اسٹیشن کے وابستہ ایک پی ایس آئی کو پوکسو ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ اب پھر ایک بار پولیس عملے سے تعلق سے رکھنے والوں پر ایسے سنگین الزام لگنے سے عوام کے اندر محکمہ پولیس کی شبیہ مزید داغدار ہوئی ہے ۔