ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں بس کا سفر مہنگا، طویل مسافت پر 9 روپے تک کرایہ بڑھانے کا فیصلہ

کرناٹک میں بس کا سفر مہنگا، طویل مسافت پر 9 روپے تک کرایہ بڑھانے کا فیصلہ

Thu, 05 Nov 2026 11:20:11    S O News

بنگلورو ، 5/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک کے عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا دیتے ہوئے ریاستی حکومت نے بسوں کے کرایوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی شرحوں کے مطابق مسافروں کو سفر کے فاصلے اور مقررہ مراحل کے اعتبار سے کم از کم اضافی کرایہ ادا کرنا ہوگا، جبکہ طویل فاصلے کے سفر پر زیادہ سے زیادہ 9 روپے تک اضافہ ہوگا۔ نظرثانی شدہ کرایوں کا اطلاق آج نصف شب سے ہوگا۔

ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ بیریتی سریش نے بنگلورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست کی چاروں ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کو ٹکٹوں کے کرایوں پر نظرثانی کا اختیار دیا گیا تھا، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ریاست میں بس کرایوں میں صرف ایک مرتبہ اضافہ کیا گیا تھا اور 2025 میں بھی کرایوں پر نظرثانی کی گئی تھی۔

وزیر ٹرانسپورٹ کے مطابق کرناٹک جنوبی ہندوستان کا سب سے بڑا سرکاری بس نیٹ ورک رکھتا ہے۔ ریاست کی چاروں ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے تحت مجموعی طور پر 26,125 بسیں خدمات انجام دے رہی ہیں، جبکہ ان اداروں میں 1,03,646 ملازمین کام کر رہے ہیں۔ روزانہ 24,179 روٹس پر بسیں چلائی جاتی ہیں اور تقریباً 1.24 کروڑ مسافر ان خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔

وزیر نے اپوزیشن کے اس الزام کو مسترد کیا کہ خواتین کے لیے مفت بس سفر کی سہولت فراہم کرنے والی ’شکتی‘ اسکیم کے باعث ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کو مالی نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ خواتین کے سفر پر خرچ ہونے والی رقم ریاستی حکومت کی جانب سے کارپوریشنوں کو ادا کی جاتی ہے اور اس سلسلے میں حکومت وقتاً فوقتاً فنڈز جاری کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 10.47 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹ اداروں پر مالی دباؤ بڑھا ہے۔ کارپوریشنوں کے مجموعی اخراجات کا تقریباً 80 فیصد حصہ ڈیزل اور ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے۔ گزشتہ سال ڈیزل پر 5,694 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ہر سال تقریباً 500 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق کارپوریشنوں پر ڈیزل کی مد میں 1,111.88 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔

وزیر نے مزید بتایا کہ 2024 میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اخراجات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ کارپوریشنوں کے ذمہ 7,719 کروڑ روپے کے اخراجاتی واجبات اور 2,192 کروڑ روپے کا قرض بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شکتی اسکیم کے تحت حکومت سے تقریباً 5,000 کروڑ روپے وصول ہونے باقی ہیں اور حکومت نے یہ رقم مرحلہ وار جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کرایوں میں اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے بیریتی سریش نے کہا کہ تمام بس ٹکٹوں پر یکساں شرح سے یا مجموعی فیصد کے حساب سے اضافہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ بس کے طے کردہ فاصلے اور مقررہ اسٹیجوں کی بنیاد پر کرایوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں کم فاصلے کا سفر کرنے والوں پر نسبتاً کم اور طویل فاصلے کا سفر کرنے والوں پر زیادہ سے زیادہ 9 روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

نئے کرایوں کے نفاذ کے ساتھ ہی ریاست بھر میں بس مسافروں کو آج نصف شب سے اضافی رقم ادا کرنی ہوگی۔


Share: