بنگلورو، 26؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک میں آئندہ سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظر حکومت ترقیاتی کاموں پر توجہ دینے کے بجائے ہندو۔مسلم تنازعہ کھڑا کرکے عوام کی توجہ ہٹانے پر لگی ہوئی تھی، اسی ارادے کے تحت پہلے حجاب پھر یکے بعد دیگرے کئی واقعات پیش آئے جس کےذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوششیں ہورہی تھیں۔ اب لگتا ہے، عیسائیوں کی باری ہے، جن کے خلاف مہم چلانے کے لئے نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے۔
تازہ معاملہ عیسائی اسکول میں بائبل پڑھانے کو لے کر شروع کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بنگلورو کے کلیرینس ہائی اسکول کی انتظامیہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بچوں کیلئے اسکول میں بائبل لانا لازمی ہے۔ اسکول کے اس فیصلے کے خلاف ہندو تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔
بتایاجارہا ہے کہ بنگلورو کے کلیرینس ہائی اسکول کی انتظامیہ نے طلبا کے والدین سے ایک درخواست فارم پر یہ عہد لیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بائبل اسکول لانے پر اعتراض نہیں کریں گے۔ کلیرنس ہائی اسکول کے پرنسپل جیری جارج میتھیو نے بتایا، ’’ ہم سوسالوں سے اپنے اسکول میں بائبل پڑھارہے ہیں اور اسکول کے پروسپکٹس پر ہم نے درج کیا ہے کہ اسکول میں بائبل پڑھائی جائے گی ، جن کو اس پر اعتراض نہیں ہے، وہی اپنے بچوں کو اس اسکول میں داخلہ کروائیں، مگر اب بائبل پڑھائے جانے کو لے کر اعتراض جتایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن پسند اور قانون کی پاسداری کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم نے اس معاملے کو لے کر اپنے وکیلوں سے رابطہ کیا ہے آئندہ کیا کرنا ہے، اس تعلق سے ہم اپنے وکیلوں کے مشورے کے مطابق آگے کی کاروائی کریں گے۔
ایک طرف سرکار اسکولوں میں حجاب پر پابندی عائد کررہی ہے، اور اسکولی نصاب میں بھگوت گیتا اور مہا بھارت کو شامل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسکولوں کو ہندو کرن کرنے میں لگی ہوئی ہے، ایسے میں عیسائی اسکول میں اپنے مذہبی کتاب بائبل کو پڑھائے جانے کا معاملہ سامنے آنے پر ہندوتوا تنظیمں چراغ پا ہوگئی ہیں اور بائبل کو پڑھائے جانے کو ایجوکیشن ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کی رپورٹ کے مطابق اسکول میں بائبل پڑھائےجانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ہندو جن جاگرتی سمیتی کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہے۔ سمیتی کے ریاستی صدر موہن گوڈا نے الزام لگایا ہے کہ اسکول غیر عیسائی بچوں کو بائبل پڑھانے پرو مجبور کر رہا ہے۔ موہن گوڈا نے اسکول کی ہدایت کو ملک کے آئین کی دفعات 25 اور 30 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
عوام اس بات پر تعجب کا اظہار کررہے ہیں کہ ہندو جن جاگرتی سمیتی کو اس بات پر اعتراض نہیں ہے کہ سرکاری اسکولوں میں مہابھارت اور گیتا پڑھائی جائے، لیکن عیسائی اسکول اپنے اسکولوں میں بائبل پڑھانے پر ان کو اعتراض ہے۔