ممبئی،9/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) وسئی ،نالا سوپارہ اورویرار میں تیسرے دن بھی سیلابی کیفیت سے عوام کو دشواریوں کا سامناکرناپڑا ۔ بجلی اور موبائل نیٹ ورک غائب رہا اور ضروری اشیاء کے حصول میں بھی لوگوں کو دقتیں پیش آئیں۔اس سیکشن پر ۷۲؍ گھنٹے بعد بھی ٹرین خدمات معمول پر نہیں آئیں ۔ حالات یہ تھے کہ منگل کی شب میں سیکڑوں مسافروں کو ممبئی سے وسئی اور ویرار پہنچنے میں ۷؍ سے ۸؍ گھنٹے لگ گئے ۔اسی طرح سینٹرل ریلوے میںبھی گھاٹ سیکشن پرجنگی پیمانے پر کام جاری ہے مگر خبرلکھے جانے تک طویل مسافتی ٹرینیں بڑی حد تک معمول پر نہیں آئی تھیں۔
نالاسوپارہ کے علاقے ہنومان نگر میںادارہ طیبہ کے ذمہ دار اور مسجدمعاذ بن جبل کے خطیب مولانا شاہ امان اللہ ندوی نےنمائندے سےبات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’۳؍دن سے حالات بہت خراب ہیں، مدرسہ اور مسجد میںبھی پانی جمع ہے اورپورے علاقے میںسیلابی کیفیت ہے ، سڑکوں پرپانی ہے اورعمارتوں کے نیچے بھی اسی طرح کے حالات ہیں۔ بدھ کے دن پانی کچھ کم ہوا ہے مگر اب بھی کافی پانی بھرا ہواہے۔اس کی وجہ سے عوامی زندگی بری طرح سےمتاثر ہے۔‘‘ مولانانے یہ بھی بتایا کہ ’’ بجلی غائب ہے اورموبائل فون کا نیٹ ورک بھی نہیں ہے۔ ان مشکل حالات میں وہ دہیسر میں اپنے شناسا کے یہاں چلے آئے ہیں۔‘‘
ویرار کے علاقے گھاس کوپری چندن سار روڈ علاقے میں جامعہ صفہ کے سربراہ مفتی انظارالحق قاسمی نے بتایاکہ ’’ویرار مشرق میں توحالات بہتر ہیں،کوئی دقت نہیں ہے مگر مغرب میں کافی خراب ہیں ۔ وہاں بھی ہر جگہ پانی ہی پانی جمع ہے۔ اس کی وجہ سے عام زندگی پر خاصا اثر پڑا ہے اورایک طرح سے عوامی زندگی پربریک لگ گیا ہے۔ ‘‘وسئی ناکہ کےبھوئیدا پاڑہ میںمقیم طفیل احمدانصاری نے بتایاکہ’’ اس وقت پانی کم ضرور ہوا ہے مگر صبح سے بجلی نہیں ہے۔ منگل کو بھی اسی طرح کےحالات تھے ۔کہا جارہا ہےکہ رات ۱۰؍ بجے بجلی آئے گی ۔ اسی طرح موبائل نیٹ ورک نہیںہے اورلوگ موبائل کی بیٹری چارج کرنے کےلئے بھی دوسرے حصے میںجاتے ہیں تاکہ اپنوں سےکم ازکم موبائل کےذریعے تو رابطہ رہے اور ایک دوسرے کی خبرگیری ہوسکے۔‘‘
وسئی کے شانتی نگر علاقے میں رہنے والے حافظ عبدالجبار خان نے بتایاکہ ان کے علاقے میںاس وقت پانی نہیں بھرا ہے مگردیگر علاقو ں میں توبرا حال ہے۔ لوگوں کے لئے ضروری اشیاء کا حصول بھی دشوار ہوگیا ہے۔‘‘ انہوں نے منگل کی شب میں وسئی گھر جانے کے وقت ہونے والی پریشانی بتاتے ہوئے کہاکہ’’ رات میں ساڑھے ۹؍ بجے وسئی جانے والی ٹرین کو نائیگاؤں ریلوے اسٹیشن پر ہی ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد کافی تاخیر سے ایک ٹرین آئی اور ساڑھے ۱۲؍بجے وہ وسئی پہنچے۔ وہاں گھٹنے سے زیادہ پانی میں چلتے ہوئے روڈ پر آئے۔یہاںبڑی تعد اد میں لوگ دیگر ذریعہ سفر کا انتظار کررہے تھے۔ بالآخر ایک ٹرک آیا، اس نےوسئی رینج آفس تک لے جانے کیلئے فی کس ۲۰۰؍روپے مانگے جس پر لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ زیادہ ہے۔ اس کے بعد ایک ٹریکٹر آیا اور وہ اور دیگر لوگ اس ٹرالی میںبیٹھ کررینج آفس پہنچے، وہاں سے ۵۰؍ روپے شیئرآٹو رکشا والے کو دےکرکسی طرح ۲؍ بجے رات میں گھرپہنچے ۔اس طرح سی ایس ایم ٹی سے گھر پہنچنے میںتقریباً ۷؍ گھنٹے لگ گئے ۔‘‘