نئی دہلی،10/فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مودی حکومت کے دروازے پربیٹھے بٹھائے ایک نئی مصیبت نے دستک دے دی ہے۔ ایل جے پی کے قومی صدر اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے حکومت سے سپریم کورٹ کے ایک حکم کو پلٹنے کامطالبہ کیاہے۔عدالت نے کہاہے کہ سرکاری ملازمتوں کی تقرری میں ریزرویشن دینے کے لیے حکومتیں پابندنہیں ہیں۔کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ پرموشن میں ریزرویشن کسی کا بنیادی حق نہیں ہوسکتاہے۔چراغ پاسوان نے کورٹ کے اس فیصلے پر اختلاف ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کرنے کا مطالبہ کیاہے۔چراغ پاسوان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عدالت کے فیصلے کو پلٹ کر ریزرویشن کاانتظام پہلے کی طرح ہی برقرار رکھے۔ پیر کو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق چراغ پاسوان معاملے کو لوک سبھا میں اٹھا سکتے ہیں۔چراغ اسے وقفہ صفر کے دوران ایوان میں اٹھائیں گے۔اگرچہ کیس کی سیاسی اہمیت کودیکھتے ہوئے کہنا مشکل نہیں ہے کہ چراغ کو اپوزیشن سمیت کئی پارٹیوں کی حمایت ملے گی جہاں جس سے اس معاملے پرپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ ہوناطے ہے۔ادھر ایل جے پی کے بانی اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے پیرکی رات کو ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ایس سی ایس ٹی ممبران پارلیمنٹ کو ایک ملن تقریب کے لیے بلایاہے۔ ان میں تمام جماعتوں کے رہنما شامل ہوں گے۔مانا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے پربھی بحث ہوگی۔