ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض اٹل بہاری واجپئی کے بھتیجے انوپ مشرا تھامیں گے کانگریس کا ’ہاتھ‘؟

ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض اٹل بہاری واجپئی کے بھتیجے انوپ مشرا تھامیں گے کانگریس کا ’ہاتھ‘؟

Wed, 27 Mar 2019 20:28:29    S.O. News Service

بھوپال ، 27 مارچ(آئی این ایس انڈیا)  سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی بھتیجی کرونا شکلا کے بعد اب ان کے بھتیجے انوپ مشرا ٹکٹ نہ ملنے سے باغیانہ تیور اپنا سکتے ہیں۔سمجھا جارہا  ہے کہ لوک سبھا انتخابات سے پہلے وہ  بی جے پی چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔پیر کو ایسی بحث تھی کہ سابق وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کی کابینہ میں وزیر رہ چکے انوپ مشرا مرینا لوک سبھا سیٹ سے ٹکٹ نہ ملنے کے سبب بی جے پی چھوڑ کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ پانچ بار کے ایم پی اور مرینا کے میئر اشوک ارگل کے بھی بی جے پی چھوڑنے کی بحث ہے۔کانگریس ذرائع نے بتایا کہ کچھ بی جے پی لیڈر وزیر اعلی کمل ناتھ اور کانگریس ہائی کمان کے رابطے میں ہیں۔انوپ مشرا 2014 میں مرینا سیٹ سے رکن پارلیمان منتخب کئے جا چکے ہیں لیکن اس بار بی جے پی نے ان کی جگہ مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کو ٹکٹ دیا ہے۔2014 میں مودی لہر کے باوجود تومر گوالیار میں محض 29 ہزار ووٹوں سے ہی جیت درج کر پائے تھے۔اس بار بی جے پی نے تومر کو مرینا سے ٹکٹ دیا ہے لیکن اس سے گوالیار۔چمبل ڈویژن کے پارٹی لیڈر انتہائی ناراض ہیں۔وہیں اشوک ارگل 1996 سے 2004 تک مسلسل چار بار ایم پی رہ چکے ہیں۔لوک سبھا انتخابات کے لئے سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان جاری ہے۔اس بار اتر پردیش، بہار اور اتراکھنڈ کی ایسی کئی سیٹیں ہیں جہاں مقابلہ دلچسپ ہونے والا ہے۔ان تینوں ہی ریاستوں میں 2014 انتخابات میں بی جے پی نے اپوزیشن کا سوپڑا صاف کر دیا تھا لیکن اس بار بہار میں مہاگٹھ بندھن اور یوپی میں ایس پی۔بی ایس پی۔آر ایل ڈی کے اتحاد کی بدولت ان سیٹوں پر بی جے پی کے امیدوار کو سخت ٹکر ملنے والی ہے۔سرحد بندی کے بعد بھنڈ ایس سی ریزرو سیٹ بن گئی اور اشوک مرینا سے منتقل ہو گئے۔انہوں نے 2009 میں بھنڈ سے کامیابی حاصل کر چکے ہیں لیکن 2014 میں انہیں امیدوار نہیں بنایا تھا۔اس بار بی جے پی نے بھنڈ سے شام رائے کو ٹکٹ دیا ہے، جس سے وہ کافی ناراض ہیں۔اشوک ارگل نے بتایاکہ بی جے پی دفتر میں رہنماؤں کے پاس کارکنوں کی بات سننے کے لئے ایک منٹ بھی نہیں ہے۔بی جے پی پنڈت دین دیال اپادھیائے کے نظریات سے بھٹک چکی ہے اور میں اس سے بے حد مجروح ہوں۔وہیں کانگریس میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں پر انہوں نے کہاکہ میں جو بھی ایکشن لوں گا، وقت کے ساتھ پتہ لگ جائے گا۔ بتا دیں کہ اکتوبر 2013 میں لوک سبھا انتخابات سے پہلے ہی اٹل بہاری واجپئی کی بھتیجی کرونا شکلا نے بی جے پی چھوڑ کر چار ماہ بعد کانگریس کا ہاتھ تھاما تھا۔انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ بی جے پی کی چال، کردار اور چہرہ تمام بدل چکا ہے۔نومبر 2018 میں کانگریس نے انہیں چھتیس گڑھ میں سابق وزیر اعلی رمن سنگھ کے خلاف اتارا تھا،دونوں کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہوا اورکرونا محض 17 ہزار ووٹوں سے ہار گئی۔


Share: