بھوپال25دسمبر ( ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ حکومت میں آج وسعت کی گئی ۔آج 28 وزراکو حلف دلایا گیا، کابینہ میں ایک مسلم وزیر بھی شامل ہے، جس کے تعلق سے بتایا جاتا ہے کہ مدھیہ پردیش میں پندرہ سال بعد کسی مسلم کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔
17 دسمبر کو اکیلے وزیر اعلی کمل ناتھ نے حلف لیا تھا۔ کانگریس ہائی کمان سے تبادلۂ خیال کے بعد وزراکی فہرست فائنل ہوئی اور آج گورنر آنندی بین پٹیل نے انہیں حلف دلایا۔ کابینہ میں علاقائی اور ذات پات کے مساوات کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی تینوں بڑے لیڈر کمل ناتھ، دگ وجے سنگھ اور جیوتی رادتیہ سندھیا کے حامی ممبران اسمبلی کو کابینہ میں جگہ دی گئی ہے۔
مدھیہ پردیش کابینہ میں وزیر اعلی کمل ناتھ کے 11، دگ وجے سنگھ کے 9، جیوتی رادتیہ سندھیا کے 7 اور ارون یادو کے ایک وزیر شامل ہیں۔
واضح ہو کہ کابینہ میں علاقائی توازن بنانے کی کوشش بھی کئی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں گزشتہ 15 سال کے بعد مسلم طبقہ کے واحد لیڈر عارف عقیل کے طور پر کابینہ میں جگہ ملی ہے۔ تمام ممبران اسمبلی نے ہندی میں عہدے اور رازداری کا حلف لیا۔ وزیر بنے جے وردھن سنگھ کانگریس کے سرکردہ لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ کے بیٹے ہیں۔ وہ مدھیہ پردیش اسمبلی کے لئے راگھوگڑھ سیٹ سے مسلسل دوسری بار رکن اسمبلی بنے ہیں۔
کمل ناتھ نے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے 6 دن بعد 17 دسمبر کو وزیر اعلی کے عہدے کا حلف انفرادی طور پرلیا تھا ۔
واضح ہو کہ مدھیہ پردیش اسمبلی کے لئے 28 نومبر کو پولنگ ہوئی تھی۔ 11 دسمبر کو آئے انتخابات کے نتائج میں ریاست کی کل 230 اسمبلی سیٹوں میں سے کانگریس کو 114 سیٹیوں پر کامیابی ملی تھی۔ اس نے بی ایس پی کے دو، ایس پی کے ایک اور چار دیگر آزاد ممبران اسمبلی کی حمایت سے حکومت بنائی ہے۔ اس وقت کل 121 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ وہیں، بی جے پی کو 109 سیٹیوں پر ہی اکتفاء کرنا پڑا تھا جس کی وجہ سے حکومت سازی کی دعویداری نہ کرسکی ۔
وزراء کی حلف برداری تقریب میں وزیر اعلی کمل ناتھ اور جیوتی رادتیہ سندھیا سمیت کئی دیگر سینئر لیڈر موجود تھے۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کا پانچ روزہ سیشن 7 جنوری سے شروع ہو گا۔