ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مینگلور اسپتال سے کورونا سے متاثرہ دس ماہ کا بچہ علاج کارگر ہونے پر ڈسچارج؛ ضلع بھر کے عوام کے لئے راحت کی خبر

مینگلور اسپتال سے کورونا سے متاثرہ دس ماہ کا بچہ علاج کارگر ہونے پر ڈسچارج؛ ضلع بھر کے عوام کے لئے راحت کی خبر

Sun, 12 Apr 2020 00:19:51    S.O. News Service

مینگلور 11/اپریل (ایس او نیوز) دس ماہ کے بچے  کی تازہ رپورٹ نگیٹیو آنے کے بعد بچے کوآج سنیچر کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔ معصوم بچے کا تعلق بنٹوال تعلقہ کے  سجیپا ناڈو دیہات سے بتایا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ دس ماہ کے بچے کو 23 مارچ کو ڈیرلاکٹے کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں  تیز بخار اور سانس لینے میں تکلیف ہونے کی بنا پر داخل کیا گیا تھا، ڈاکٹروں کو کورونا کا شبہ ہوا تو سیمپل جانچ کے لئے روانہ کئے گئے تھے اور شک صحیح ثابت ہوا اور پورٹ پوزیٹیو آئی جس کے بعد بچے کو مینگلور کے وینلاک اسپتال میں داخل کیا گیا ، جبکہ بچے کی  ماں اور نانی کو اسپتال میں ہی کورنٹائن میں رکھنے کے ساتھ ساتھ بچے کے رابطے میں آنے والے دیگر لوگوں کو ہوم کورنٹائن کی ہدایت دی گئی تھی۔

وینلاک اسپتال میں بچے کا مکمل علاج کئے جانے  کے بعد اپریل 7 اور 8 کو   دو دن تک بچے کے نمونے جانچ کے لئے پھر روانہ کئے گئے اور دونوں مرتبہ رپورٹس نیگیٹیو آئی، ساتھ ساتھ اس کی والدہ اور نانی کی رپورٹ بھی نیگیٹو آگئی جس  کے بعد بچےکے ساتھ ماں اور نانی کو بھی  ڈسچارج کردیا گیا ہے۔

مینگلور سمیت پورے ضلع جنوبی کینرا کے عوام اس بات پر راحت کی سانس لے رہے ہیں کہ ایک طرف اسپتال میں ایڈمٹ تمام کورونا مریض روبہء صحت ہیں وہیں آخری ایک ہفتہ سے کوئی بھی رپورٹ پوزیٹیو نہیں آئی ہے۔

اطلاع کے مطابق ضلع دکشن کنڑا میں جملہ 12 کیسس کورونا مثبت پائے گئے تھے جس میں سے 6 لو گ صحتیاب ہوکر اسپتال سے ڈسچارج ہوچکے ہیں، بقیہ چھ کا علاج جاری ہے۔

بتایا گیا ہے کہ دس ماہ کے بچے میں کورونا کے اثرات پائے جانے سے یہ کیس ڈاکٹروں کے لئے بھی بہت بڑا چیلنج بن گیا تھا کیونکہ پوری ریاست میں ایسا معاملہ سامنے نہیں آیا تھا کہ اتنے چھوٹے بچے میں کورونا کے اثرات پائے گئے ہوں،لیکن  وینلاک اسپتال کے ایسولیشن وارڈ میں بچے کو  بہترین ٹریٹمنٹ دیا گیا اورڈاکٹروں نے پوری نگرانی رکھی۔ جس کے چلتے بچہ صحیتیاب ہوگیا

واضح رہے کہ اتنے چھوٹے بچے میں کورونا وائرس کے اثرات پائے جانے کے بعد انتظامیہ نے  پورے دیہات کو لاک ڈاون کردیا تھا جس پر گاوں والوں نےبھی انتظامیہ کو  بھرپور تعاون دیا اور اس دوران  نہ کسی کو دیہات میں داخل ہونے دیا گیا اور نہ ہی کسی کو باہر جانے دیاگیا۔ایسے میں ضلع انتظامیہ نے بھی گاوں والوں کے گھر گھر ضرورت کی چیزیں اور راشن وغیرہ پہنچایا اور کسی کو گھروں سے باہر نکلنے نہیں دیا۔

بتایا گیا تھا کہ بچے کی ماں یا گھر والوں کا کسی بھی بیرون ملک جانے کا  ٹراویل ریکارڈ نہیں تھا جس پر لوگ حیرت کا اظہار کررہے تھے کہ پھر بچے میں کورونا کے اثرات کیسے پائے گئے، البتہ  اس بات کا پتہ چلا تھا کہ بچہ بیمار پڑنے سے کچھ روز قبل گھر کے کچھ  افراد اپنے رشتہ داروں سے ملنے پڑوسی ریاست کیرالہ جاکر آئے تھے۔

 

 


Share: