مہاراشٹر،15/ نومبر (آئی این ایس انڈیا) دو دن قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مہاراشٹر کے امراوتی میں بند کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران شہر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور آتش زنی کی وارداتیں ہوئیں۔ مظاہرین نے پولیس اور صحافیوں پر پتھراؤ بھی کیا، اس معاملے میں پولیس نے اب تک کل 15 ایف آئی آر درج کی ہیں اور کل 54 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے اب بی جے پی کارکنوں کے گھر تلاشی مہم شروع کردی ہے۔ آج صبح بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیر زراعت ڈاکٹر انیل بونڈے کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ بی جے پی کے باقی کارکن فی الحال پولس کی گرفت سے باہر ہیں، جن کی معلومات کی جارہی ہے۔ پولیس نے کہا کہ یہ بند تریپورہ میں فرقہ وارانہ تشدد کی مخالفت میں جمعہ کو امراوتی میں مسلم تنظیموں کی طرف سے کیا گیا ریلیوں کے خلاف کیا گیا تھا۔ دارالحکومت ممبئی سے تقریباً 670 کلومیٹر دور مشرقی مہاراشٹر کے اس شہر کے راج کمل چوک علاقے میں ہفتے کی صبح سینکڑوں لوگ نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ ان میں سے کئی لوگوں کے ہاتھوں میں بھگوا جھنڈے تھے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ہجوم کے کچھ ارکان نے راج کمل چوک علاقے اور کچھ دیگر مقامات پر پتھراؤ کیا اور دکانوں کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا۔ عہدیداروں نے کہا کہ جمعہ کو امراوتی ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہر آٹھ ہزار سے زیادہ لوگ جمع ہوئے تھے اور اقلیتی برادری کے خلاف مظالم کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک میمورنڈم پیش کیا تھا۔ جب لوگ میمورنڈم سونپنے کے بعد نکل رہے تھے تو کوتوالی تھانہ علاقہ کے چترا چوک اور کاٹن بازار کے درمیان تین مقامات پر پتھراؤ کیا گیا۔ دریں اثنا اپوزیشن بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے، شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ہفتے کے روز کہا کہ امراوتی اور دیگر مقامات پر تشدد کا مقصد مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) حکومت کو غیر مستحکم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے پیچھے اصلی چہروں کا نقاب ریاستی وزارت داخلہ کی تحقیقات کے بعد ہٹ جائے گا۔ امراوتی ضلع کے وزیر یشومتی ٹھاکر نے کہا تھا کہ کچھ سماج دشمن عناصر دکانوں پر پتھر پھینک کر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔