بنگلورو،11؍اگست(ایس او نیوز) سینئر بی جے پی لیڈر کے ایس ایشورپا نے آج دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کو شکست دینے میں نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور کا ہاتھ تھا۔ ایشورپا نے کہاکہ چامنڈیشوری حلقے سے سدرامیا کی ہار پرمیشورکی ہی سازش کا نتیجہ تھی۔ 2013کے اسمبلی انتخابات میں سدرامیا نے پرمیشور کو ہرایاتھا، اس کا انتقام لینے کے لئے پرمیشور نے اس بار چامنڈیشوری سے سدرامیا کی شکست یقینی بنائی۔
انہوں نے کہاکہ سدرامیا جو اقتدار کے غرور میں شرابور ہوچکے تھے ہار نے انہیں پاگل بنادیا ہے۔ مخلوط حکومت کے قیام کے بعد ریاست کی سیاست سے سدرامیا اکتا چکے ہیں اور اب قومی سیاست کی طرف رخ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے بلدی انتخابات کے پیش نظرانتخابی ضابطہ لاگو ہونے کے باوجود بھی مختلف سرکاری محکموں میں تبادلے بے روک ٹھوک جاری ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ اندیشہ ہوتاہے کہ ریاست میں نظم وضبط اور آئین کی پابندی برقرار ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہاکہ کل ہاسن میں وزیر برائے تعمیرات عامہ ریونا نے یہ دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے 20 سے زائد اراکین اسمبلی جنتادل (ایس) میں شمولیت کے لئے منتظر ہیں۔ ایشورپا نے کہا کہ اس کے لئے وہ ریونا کو ایک سال کا وقت دیتے ہیں ، بی جے پی کے ایک بھی رکن اسمبلی کو اپنی طرف کرکے دکھائیں۔ انہوں نے کہاکہ کسانوں کے قرضوں کی معافی کے معاملے میں وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے دوغلہ رویہ اپنایا ہے۔ قرضوں کی معافی کے متعلق حکومت پر غیر سنجیدہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ایشورپانے کہاکہ قومی بینکوں سے کسانوں کے قرضے معاف کرنے کا وعدہ کرکے کمار سوامی اب اس سے مکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی پر نکتہ چینی کرنے والے در اصل پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کمار سوامی کو ایشورپانے پاکستان کا ہم خیال قرار دیا۔