نئی دہلی،19؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پٹرول اور ڈیژل کی بڑھتی قیمتوں سے عوام پریشان ہیں۔ اس کا غصہ سوشل میڈیا پر بھی نظر آتا ہے۔ دوسری طرف حزب اختلاف نے بھی سڑک پر نشانہ لگانا شروع کردیا ہے۔ ادھربی جے پی سے ممبر راجیہ سبھا ممبر سبرامنیم سوامی نے پٹرول اورڈیزل کی بڑھتی قیمتوں پر اپنی ہی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے جمعہ کو ٹویٹ کیاہے کہ اس مسئلے پر عوام کی رائے ایک ہے کہ قیمتوں میں اضافہ استحصال ہے۔ حکومت پیٹرول اور ڈیژل سے عائد ٹیکس کو ختم کرے۔سوامی نے ٹویٹ کیا ہے کہ لوگوں کی آواز شاذ و نادر ہی واضح اوربلندہے۔ لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔ پٹرول ، ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں عام رائے عامہ ہے (سوائے جعلی شناختوں والے ٹویٹر کے) کہ بڑھتی ہوئی قیمت استحصالی ہے۔
لہٰذاحکومت کوچاہیے کہ وہ محصولات کو ختم کرے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کے کچھ شہروں میں ، پٹرول کی قیمتیں سنچری تک آگئیں۔ جمعہ میں ملک بھر میں لگاتار 11 ویں دن ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ دہلی میں جمعہ کے روز پٹرول 31 پیسے مہنگا ہوگیا جبکہ ڈیزل 33 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے عوام کا غم و غصہ بھی بڑھ رہاہے جس کی جھلک سوشل میڈیا پر آرہی ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے بھی پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف سڑکوں پر آنا شروع کردیا ہے۔خواتین کانگریس نے چھتیس گڑھ کے اس دعوے کا حوالہ دیا ہے کہ صرف کانگریس ہی عام لوگوں کی پرواہ کرتی ہے۔ اپنے سرکاری ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا ہے کہ قیمتوں کے درمیان کانگریس کے زیر اقتدارچھتیس گڑھ میں پٹرول 12 روپے اور ڈیزل 4 روپے سستا ہے۔ صرف کانگریس ہی اس کی دیکھ بھال کرتی ہے۔