ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / زیر التوا کیسوں پرچیف جسٹس کا وزیراعظم مودی کو خط، ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر بڑھانے کی تجویز

زیر التوا کیسوں پرچیف جسٹس کا وزیراعظم مودی کو خط، ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر بڑھانے کی تجویز

Sat, 22 Jun 2019 21:41:51    S.O. News Service

نئی دہلی، 22 /جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ملک کی عدالتوں پر مقدمات کے مسلسل بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کو لے کر چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔اس خط میں چیف جسٹس آف انڈیا گگوئی نے بڑھتے زیر التواء مقدمات کا ذکر کیا ہے۔گگوئی نے پی ایم مودی لکھا ہے کہ عدالتوں میں کئی سالوں سے ہزاروں کیس میں زیر التواء پڑے ہیں، جن کے حل کے لیے ججوں کی تعداد بڑھنی چاہئے۔ساتھ ہی چیف جسٹس گوگوئی نے پی ایم مودی کو لکھی خط میں ہائی کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر کی حد کو بڑھانے کا مشورہ دیا،ابھی ہائی کورٹ میں ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال ہے۔چیف جسٹس گوگوئی نے اسے 65 سال کرنے کو کہا ہے۔انہوں نے خط میں ہائی کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھائے جانے کا بھی مشورہ دیا ہے۔بتا دیں کہ ان دونوں معاملوں میں حکومت کو آئین میں ترمیم کرنا پڑے گا۔

وزیر اعظم کے نام چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے خط میں صاف ہے کہ ابھی سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد کے مطابق تو آئین متعلق معاملات کی سماعت کے لئے ضروری ہے کہ پانچ ججوں کی بہت آئینی بنچ بنائی جائے پر فی الحال ججوں کی محدود تعداد میں یہ بہت مشکل ہے۔بتا دیں کہ ابھی سپریم کورٹ میں ججوں کے 31 عہدے منظور ہیں، فی الحال اتنے ہی جج ہیں۔وہیں حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ابھی ہائی کورٹس میں قریب 44 لاکھ اور سپریم کورٹ میں 58700 کیس زیر التواء پڑے ہیں۔چیف جسٹس گگوئی کا مشورہ ہے کہ زیر التوا معاملوں کو نمٹانے کے لئے حکومت ریٹائرڈ ججوں کو درست مدت کے لئے مقرر کرنے کا نظام نافذ کر سکتی ہے۔سپریم کورٹ کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس گوگوئی نے لکھا ہے کہ زیر التواء مقدموں کا یہ حال ہے کہ یہاں 26 مقدمات 25 سال، 100 سے زیادہ مقدمات 20 سال، تقریبا 600 مقدمات15 سال اور 4980 مقدمات گزشتہ دس سال سے چل ہی رہے ہیں۔


Share: