ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / رام مندرپرقانون سازی کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں گے،سپریم کورٹ پر فیصلہ چھوڑدیناچاہیے،بھاگوت کے بیان پرجدیوکاسخت موقف

رام مندرپرقانون سازی کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں گے،سپریم کورٹ پر فیصلہ چھوڑدیناچاہیے،بھاگوت کے بیان پرجدیوکاسخت موقف

Thu, 18 Oct 2018 23:36:41    S.O. News Service

جے ڈی یو کی دھمکی کے بعد اوپیندر کشواہا نے سیٹوں پر بی جے پی کو خبردار کیا،این ڈی اے میں انتشارکے آثار
نئی دہلی18اکتوبر(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) رام مندرکے معاملے پر جے ڈی یو نے خبردارکیاہے۔ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے جلد مندر بنانے کے لیے قانون بنانے کے بیان پرجے ڈی یو نے کہا کہ وہ اس کے خلاف ہے۔بھاگوت کے بیان کے بعد آر جے ڈی اور کانگریس کے بیان کے آنے سے پہلے ہی جے ڈی یو نے اس معاملے میں سخت موقف لیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے باہر رام مندرقانون بنانے کے کسی اقدام کے جے ڈی یوخلاف ہے۔پارٹی لیڈر کے سی تیاگی نے کہا کہ جب جے ڈی یو این ڈی اے کا حصہ بنی تھی تب صاف طے ہواتھاکہ حکومت کے اندر ان ایجنڈوں پرنہیں چلا جائے گا۔ ایسے میں رام مندر پر فیصلہ سپریم کورٹ پر چھوڑ دیا جانا چاہیے۔رام مندر سے منسلک قانون اگر حکومت لاتی ہے تو کیا جے ڈی یو این ڈی اے کا حصہ بنی رہے گی یا نہیں؟ اس سوال پر سی تیاگی نے کہا کہ ابھی ایسی صورت حال نہیں ہے لیکن یہ طے ہے کہ وہ ایسی پہل کے خلاف رہیں گے۔رام مندرپرجے ڈی یو نے یہ موقف ایسے وقت میں لیاہے جب ایک دن پہلے بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بھی درپردہ طور پر خبردار کیا کہ وہ اتحاد کی مجبوری میں ان چیزوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔دوسری طرف بہار میں کچھ دنوں کی امن کے بعد ایک بار سیاسی گھمسان تیز ہونے کے آثارہیں۔جمعرات کو ایک ساتھ مختلف مسائل پر بی جے پی کو اس کے اتحادیوں نے ہی خبردار کیا کہ وہ اپنی شرائط کے ساتھ ہی رہیں گے۔آپ کو بتا دیں کہ ریاست کی 40 لوک سبھا سیٹوں کی تقسیم کو لے کر گزشتہ کچھ دنوں سے این ڈی اے کے اتحادیوں میں خلیج بڑھی رہی ہے۔اگرچہ بعد میں بی جے پی اور جے ڈی یو نے کہا تھا کہ قابل احترام طریقے سے سب کچھ طے ہو گیا ہے۔ این ڈی اے کے اتحادی قومی لوک سمتا پارٹی نے بی جے پی سے کہا کہ وہ 2014 کے مقابلے ایک بھی سیٹ کم نہیں لے گی۔پارٹی سربراہ اور مرکزی وزیر اوپیندرکشواہانے جمعرات کو بہار سے بی جے پی کے انچارج بھوپندر یادو سے میٹنگ کی جس میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر بحث ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اوپیندر کشواہا نے تین سیٹ سے کم سمجھوتہ نہیں کرنے کے اشارے دیئے۔ آپ کو بتا دیں کہ2014 میں پارٹی تین سیٹوں پر انتخاب لڑی تھی اورتینوں پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ وہیں بی جے پی ذرائع کے مطابق وہ اتحادیوں کے ان دباؤ پر جلدی میں کوئی ردعمل نہیں دے گی۔ پارٹی کو لگتا ہے کہ سیٹوں میں سے زیادہ حصہ داری کے لیے مختلف طریقے سے دباؤ بنایا جا رہا ہے۔


Share: