الہ آباد، 16 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات کا اعلان ہوتے ہی پارٹی بدلنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔اتر پردیش کی پریاگ راج لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کے ایم پی شیاماچرن گپتا پارٹی سے بغاوت کر سماج وادی پارٹی (ایس پی) سے جڑ گئے ہیں۔ایس پی میں داخلے کے ساتھ ہی شیاماچرن گپتا کو باندہ لوک سبھا سیٹ سے امیدوار بھی قرار دے دیا گیا ہے۔ادھر اتراکھنڈ میں سابق وزیر اعلی اور بی جے پی کے لیڈر بھون چندر کھنڈوری کے بیٹے منیش کھنڈوری کانگریس میں شامل ہو گئے۔غور طلب ہے کہ ایم پی شیاماچرن گپتا کے بیٹے ودوپ اگرہاری نے بی جے پی پر والد صاحب کی توہین کا الزام لگا کر ٹکٹ کٹنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔اس کے ساتھ انہوں نے خود والد کی سیٹ یعنی الہ آباد سے آزاد امیدوار الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔شیاماچرن کو 5 سالوں تک ہر معاملے پر ان کی اپنی پارٹی یعنی بی جے پی سے مختلف رائے کے لئے جانا جاتا ہے۔بتا دیں کہ باندہ سیٹ میں 6 مئی کو ووٹ دیا جائے گا۔سال 2014 میں یہ سیٹ بی جے پی کے کھاتے میں آئی تھی،یہاں سے بی جے پی امیدوار بھیروں پرساد مشرا نے کامیابی حاصل کی تھی۔
منیش کھنڈوری کی کانگریس میں داخلے کے دوران پارٹی صدر راہل گاندھی بھی موجود رہے۔انہوں نے کہاکہ میں آپ کو بتاؤں گا کہ وہ آج یہاں کیوں ہیں،آپ ان کے والد کو اچھی طرح سے جانتے ہیں،وہ پارلیمنٹ ڈیفنس کمیٹی کے چیئرمین تھے۔انہوں نے (بی سی کھنڈوری) اپنی پوری زندگی آرمی کو دے دی،تاہم جب انہوں نے پارلیمنٹ میں نیشنل سیکورٹی سے منسلک ایک سوال پوچھا اور بتایا کہ کس طرح سے فوج کی مدد کی جانی چاہئے، جو نہیں کی جاتی ہے تو انہیں کمیٹی سے ہٹا دیا گیا۔