ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل : اینڈو سلفان سے متاثرہ مریضوں کی بے بسی ۔ مفت سرکاری علاج کی سہولت سے ہوگئے محروم

بھٹکل : اینڈو سلفان سے متاثرہ مریضوں کی بے بسی ۔ مفت سرکاری علاج کی سہولت سے ہوگئے محروم

Sat, 24 Apr 2021 13:40:42    S.O. News Service

بھٹکل، 24؍اپریل (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ میں اینڈو سلفان سے متاثرہ معذورین کے لئے حکومت کی طرف سے جاری مفت علاج کی سہولت پچھلے دو مہینوں سے منقطع ہوجانے کے بعد مریض لاچار و بے بس ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ باغات کو جراثیم سے پاک رکھنے کے لئے اینڈو سلفان نامی دوائی کا چھڑکاو کیا جاتا تھا جس کے منفی نتائج سے ریاست میں بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے۔ بھٹکل سے منگلور تک    میں بھی بہت سے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اور مختلف امراض کی وجہ سے وہ معذوری کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔

ان متاثرین کی حالت کا نوٹس لیتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ اینڈو سلفان متاثرہ مریضوں کی باز آباد کاری کے لئے منصوبہ بندی کی جائے۔ جس کے تحت متاثرین کو شناختی کارڈ ، ماہانہ وظیفہ اور ہر مریض کے گھر تک پہنچ  کر اسے علاج کی سہولت فراہم کرنے جیسے قدامات شامل ہیں۔

پڑوسی ضلع اڈپی اور جنوبی کینرا میں مریضوں کو کے ایس ہیگڈے ہاسپٹل اور منی پال  ہاسپٹل میں مفت علاج فراہم کیا جارہا ہے۔ مگر شمالی کینرا میں  چونکہ کوئی بڑا اور جدید سہولتوں سے آراستہ ہاسپٹل نہیں ہے اس لئے محکمہ سماجی بہبود نے موبائل کلینک کے ذریعے متاثرہ مریضوں کے گھروں کے دروازے تک ماہانہ دوائیں اور وظیفہ پہچانے کا انتظام کیا تھا اور اس کا ٹھیکہ سرسی کے ایک پرائیویٹ ادارہ اسکوڈویس کو دیا گیا تھا۔

کنڑا روزنامہ پرجاوانی کی رپورٹ کے مطابق  اسکوڈویس کو یہ ٹھیکہ تین سال کے اگریمنٹ پر دیا گیا تھا جو دو مہینے قبل ختم ہوگیا۔ اس کے بعد سرکاری سطح پر اس کی تجدید کرنے یا کسی ادارہ کو یہ ٹھیکہ دینے کا کام ابھی تک نہیں ہوا ہے اور گزشتہ دو مہینوں سے یہ مریض دوائی کے بغیر بڑی بے بسی اور لاچاری کا شکار ہوگئے ہیں۔ چونکہ ان دواوں کا ماہانہ خرچ دو سے تین ہزار روپے تک ہوتا ہے اس لئے یہ غریب اور قلی مزدوری کرنے والے مریضوں یا ان کے سرپرستوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ اور پھر مزدور طبقہ کے لوگ اپنا  روزانہ کا کام دھندا چھوڑ کر متاثرہ بچوں کو لے کر اسپتالوں کے چکر لگانا بھی ممکن نہیں ہے۔ 

بھٹکل میں متاثرہ ایک گھرانے کے متاثرہ بچے کی والدہ سعدیہ نے بتایا کہ "تین سال سے ہمارے بچے کو مفت دوائیں اور علاج و معالجہ فراہم کیا جارہا تھا۔ اب اچانک یہ اسکیم ختم کردی گئی ہے۔ بچے کے علاج کے لئے ضروری دوائیاں اب ہمیں بازار سے خریدنی پڑ رہی ہیں۔ اس کا خرچ ہزاروں روپے ہوتا ہے۔ اگر یہ اسکیم دوبارہ جاری ہوجاتی ہے تو ہم جیسے غریب خاندانوں کے لئے بڑی آسانی ہوگی۔"

لہٰذا حکومت کو فوری طور پر اس طرف توجہ دینے اور اپنے ناکردہ جرم کی سزا بھگت رہے ان مریضوں کو راحت پہنچانے کا انتظام کرنا چاہیے۔


Share: