بھٹکل 22/ جنوری (ایس او نیوز)بھٹکل تعلقہ پنچایت کی ماہانہ میٹنگ کے دوران سرکاری بس اسٹائنڈ کے سامنے ہی چلائے جارہے پرائیویٹ بسوں کے کاروبار کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ تعلقہ پنچایت صدر ایشور نائک کی صدارت میں چل رہی میٹنگ میں رکن ہنومنت نائک نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ شہر میں پرائیویٹ بسوں کا کاروبار بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہا ہے۔ خاص کر سرکاری بس اسٹائنڈ کے سامنے ہی پرائیویٹ بسیں کھڑی کرکے وہاں سے مسافروں کو کنداپور اور منگلورو کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کنداپور ڈپو سے جب سرکاری بس بھٹکل کے لئے بھیجی جارہی ہے تو بھٹکل بس ڈپو سے کنداپور کے لئے کیوں بسیں روانہ نہیں کی جا رہی ہیں؟ اس تعلق سے بعض اہم ثبوتوں کے ساتھ کئی مرتبہ ضلع ڈپٹی کمشنر کے ساتھ رابطہ قائم کیا گیا مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ہنومنت نائک نے پوچھا کہ آخر اس کے پیچھے کونسی لابی کام کر رہی ہے؟
اس کا جواب دیتے ہوئے بھٹکل بس ڈپو کے اسسٹنٹ کنٹرولر اشوک ہیگڈے نے کہا کہ ہم یہاں سے کنداپور کے لئے بس روانہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے کوشش کرکے ہم نے اجازت نامہ بھی حاصل کرلیا ہے۔ کے ایس آر ٹی سی کے ایڈ منسٹریٹیو منیجر کے حکم کے مطابق یہ اجازت نامہ کنداپور بس ڈپو کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ہم بے بس ہیں، اعلیٰ افسران کا حکم ہی اہم ہوتا ہے۔
میٹنگ میں موجود کئی اراکین پنچایت نے کہا کہ اسکول اور کالج شروع ہوگئے ہیں، لیکن بھٹکل تعلقہ میں باقاعدگی سے سرکاری بسیں نہیں چل رہی ہیں۔ بعض مقامات پر دن میں ایک ہی مرتبہ بس چل رہی ہے۔ اس سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لئے جلد سے جلد بسوں کو چلانے کا انتظام درست کیا جائے۔
پنچایت رکن جئے لکشمی گونڈا نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ یقینی روزگار اسکیم کے تحت 'جاب کارڈ' بنوائے گئے ہیں مگر کئی گرام پنچایتوں میں برسہا برس سے روزگار کے مواقع فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ اور بے روزگاروں کو وظیفہ بھی نہیں دیا جا رہا ہے۔ جئے لکشمی گونڈا اور میناکشی نائک نے معذوروں کو تین پہیہ گاڑیاں فراہم کرنے کی اسکیم میں دوبارہ انہی گرام پنچایتوں کو چننے کے تعلق سے سوال اٹَھایا، جہاں اس سے پہلے یہ گاڑیاں فراہم کی جا چکی ہیں۔ ایک اور رکن نے معذوروں کے لئے گاڑیوں کی تقسیم کے تعلق سے اراکین کو اعتماد میں نہ لینے کی شکایت کی تو تھوڑی دیر کے لئے میٹنگ میں گرما گرم بحث چھڑ گئی۔
بی ای او دیوی داس موگیر نے بتایا کہ تعلقہ کے کئی مقامات پر جاترا رہنے کی وجہ سے اسکولوں میں حاضری متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ والدین کی طرف سے تمام جماعتوں میں پڑھائی شروع کرنے اور دن بھر کلاس جاری رکھنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن سرکاری حکم کے بغیر اس طرح کا اقدام نہیں کیا جا سکتا۔
میٹنگ کے دوران ٹی ایچ او ڈاکٹر مورتی راج، تعلقہ اسپتال کی ایڈمنسٹریٹو میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سویتا کامت کے علاوہ دیگر محکمہ جات کے افسران نے اپنے اپنے محکمہ کی کارکردگی پیش کی۔ تعلقہ پنچایت نائب صدر رادھا وئیدیا، اسٹانڈنگ کمیٹی چیرمین مہابلیشور نائک، ای او پربھاکر چکناور وغیرہ موجود تھے۔