پٹنہ 29،نومبر (ایس او نیوز؍یو این آئی ) سیاسی مخالفین کو پھنسانے کیلئے مرکزی جانچ بیورو ( سی بی آئی ) کا غلط استعمال کئے جانے کے سلسلے میں راشٹریہ جنتادل ( آرجے ڈی ) نے آج بہار قانون ساز کونسل میں زبردست ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے کاروائی صرف 15 منٹ بعد ہی دو پہر تک کیلئے ملتوی کرنی پڑی ۔ کارگذار چیئر مین ہارون رشید کے نشست پر بیٹھتے ہی آر جے ڈی کے رام چندر پوربے نے التواتحریک کے ذریعہ معاملے کو اٹھایا ۔ انہوں نے کہاکہ اخبارات میں شائع خبروں کے مطابق ، سی بی آئی کے موجودہ ڈائریکٹر آلوک ورما نے مرکزی ویجیلینس کمیشن ( سی وی سی ) کو بھیجے اپنے جواب میں الزام لگایا ہے کہ ریلوے ہوٹل ٹنڈر گھپلے کی جانچ کے وقت بیورو کے اس وقت کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا ، بہار کے نائب وزیراعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے سنیئر لیڈر سشیل کمار مودی اور وزیراعظم دفتر کے ایک سنیئر افسر ان سے مسلسل رابطے میں تھے ۔ مسٹر پوربے نے کہاکہ اس معاملے میں پختہ ثبوت نہیں ہونے کے باوجود یہ لوگ بہارکے سابق وزیراعلیٰ اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کے خلاف معاملہ درج کرانے اور گرفتار کرانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھی بیورو کے ان منصوبوں کی معلومات تھی۔آرجے ڈی کے رکن مسٹر پوربے نے کہاکہ اس معاملے میں سازش کنندہ کے طور پر ریاست کے نائب وزیراعلیٰ سشیل کمار مودی شامل ہیں اور بہار کی عوام کے ذریعہ جمہوری طریقہ سے منتخب حکومت کو ختم کرنے کے ناپاک ارادے سے ریاست کے وزیراعلیٰ ، نائب وزیراعلیٰ اور حزب اقتدار جماعت کے کئی لیڈران کے ذریعہ وزیراعظم دفترکے رسوخ کا غلط استعمال کرکے اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو اور ان کے اہل خانہ کو سازش کا شکار بنایا گیا ۔ یہ انتہائی سنگین اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے ۔ اس بیچ حزب اقتدار جنتادل یونائٹیڈ کے نیرج کمار نے کہاکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہاہے ۔ آرجے ڈی کے لیڈر پوربے عدالتی عمل پر سوال کھڑے کر رہے ہیں جو مناسب نہیں ہے ۔ ان کے اتنا کہتے ہی آرجے ڈی کے اراکین شورو غل اور نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے بیچ میں آگئے ۔ اس دوران حزب اقتدار کے اراکین اپنی ۔ اپنی نشستوں کے سامنے کھڑے ہوکر مسٹر سشیل کمار مودی کی کتاب ‘ لالو لیلا ’ کا پوسٹ لہر ا رہے تھے وہیں آر جے ڈی کے اراکین نعرے بازی کر رہے تھے ۔ آرجے ڈی اراکین کے شورو غل اور نعرے بازی کے درمیان ہی کارگذار چیئر مین نے کونسل کے کام ضابطہ نامہ کا حوالہ دیکر مسٹر پوربے کے تحریک التوا کو نامنظور کر دیا ۔ اسی دوران پبلک ہیلتھ انجینئر نگ کے وزیر ونود نارائن جھا نے کہاکہ کیا یہ عدلیہ پر انگلی اٹھانے کے مترادف نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ چل رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ اسمبلی اور کونسل کا معاملہ نہیں ہے ۔ ایک طرف آرجے ڈی کہتاہے کہ عدلیہ پر بھروسہ ہے تو دوسری جانب سوال بھی کھڑے کئے جارہے ہیں۔ مسٹر جھا نے کہاکہ اگر کوئی بدعنوانی کرے گا تو قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے ) چپ بیٹھنے والانہیں ہے ۔ کوئی چوری کرے گا اور زور سے بولے گا یہ نہیں چلنے والا ۔ انہوں نے کہاکہ ایک خاندان کی وجہ سے اسمبلی اور کونسل کی کاروائی میں روکاوٹ پیدا ہورہی ہے ۔ پارلیمانی امور کے وزیر شرون کمار نے کہاکہ ایوان ضابطے سے چلتاہے نہ کہ منمانی سے ۔ جب تک چیئرمین کی اجازت نہ ملے تب تک اپوزیشن کی جانب سے تحریک التوا نہیں لائی جاسکتی ۔ انہوں نے کہاکہ آرجے ڈی اراکین کی باتیں کاروائی میں کیسے شامل کی جائیں گی ۔