دبئی، 29/اکتوبر(ایس او نیوز /پریس ریلیز) متحدہ عرب امارات کے کابینی رکن اور وزیر رواداری و بقائے باہمی شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے سالانہ ہیلتھ ایوارڈز 2026 کی چھٹی تقریب میں ملک کے ممتاز ڈاکٹروں، طبی ماہرین، صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد اور اداروں کو اعزازات سے نوازا۔ دبئی کے گرینڈ حیات ہوٹل میں شیخ نہیان بن مبارک النہیان کی سرپرستی میں منعقدہ اس تقریب میں سرکاری و نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والی طبی شخصیات، اعلیٰ عہدیداروں اور معزز مہمانوں سمیت تقریباً 1,000 افراد نے شرکت کی۔
سالانہ ہیلتھ ایوارڈز کے تحت اس سال 50 سے زائد زمروں میں اعزازات پیش کیے گئے، جن میں طبی خدمات میں نمایاں کارکردگی، جراحی کے شعبے میں جدت، صحت عامہ، صحت و تندرستی، طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی دیکھ بھال جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے 15 ممتاز شہریوں کو بھی ان کی خدمات اور ملک کے طبی نظام کی ترقی میں بڑھتے ہوئے کردار کے اعتراف میں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے ڈاکٹر تھمبے محی الدین اور ہیلتھ ٹیم کا اس اہم تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چھٹے سال میں داخل ہونے والے یہ ایوارڈز ان افراد اور اداروں کی مہارت، جدت اور لگن کا اعتراف ہیں، جو متحدہ عرب امارات میں صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طبی شعبے میں ہونے والی ہر پیش رفت کے پیچھے ایسے افراد اور ادارے ہوتے ہیں جو انسانی زندگی کے تحفظ اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے خود کو وقف کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدرِ متحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید النہیان کی دانشمندانہ قیادت میں عوام کی صحت اور فلاح و بہبود ملک کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کی رہنمائی میں ایسا طبی نظام قائم کیا گیا ہے جو اعلیٰ معیار، جدت پسندی اور ہر فرد و معاشرے کی ضروریات کا خیال رکھنے کے اصولوں پر استوار ہے۔ انہوں نے دبئی کے حکمراں، نائب صدر اور وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم کی دوراندیش قیادت اور صحت کے شعبے میں معیار و جدت کو فروغ دینے کے عزم کو بھی سراہا۔
شیخ نہیان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا مقصد ایسا طبی نظام قائم رکھنا ہے جہاں علم، جدت، ہمدردی اور انسانی وقار کے احترام کو یکجا کرکے ہر فرد کی خدمت کی جائے۔ اس تقریب میں اعزاز پانے والے افراد اور اداروں نے اپنی مہارت، درست فیصلوں، پہل قدمی اور لگن کے ذریعے ان اقدار کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے مریض کو اپنی خدمات کا مرکز بنایا۔
ملک کے طبی شعبے میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے طبی اداروں میں مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات سے وابستہ مرد و خواتین مل کر کام کرتے ہیں، لیکن سب کا مشترکہ مقصد مریض کی فلاح اور معاشرے کی صحت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں رواداری اور بقائے باہمی محض نظریاتی اصول نہیں، بلکہ روزمرہ عملی زندگی کا حصہ ہیں۔ ڈاکٹر کا ہر مریض کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا، نرس کا مختلف ثقافت سے تعلق رکھنے والے خاندان کو تسلی دینا اور مختلف قومیتوں کی طبی ٹیموں کا ایک مقصد کے تحت کام کرنا ان اقدار کی بہترین مثالیں ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے 15 شہریوں کو خصوصی اعزازات دیے جانے پر شیخ نہیان نے کہا کہ ان کی کامیابیاں ملک میں مقامی طبی صلاحیتوں کی بڑھتی ہوئی قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوجوان اماراتی ان افراد سے ترغیب حاصل کرتے ہوئے طب اور صحت کے علوم کو اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کے طور پر اختیار کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کامیابیوں میں متعلقہ افراد کے خاندانوں، اساتذہ، رہنماؤں اور تربیت فراہم کرنے والے اداروں کا اہم کردار ہے۔

سال 2026 کو متحدہ عرب امارات میں خاندان کا سال قرار دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت مند زندگی کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ خاندان بچوں میں صحت مند عادات پیدا کرنے، بزرگوں کی دیکھ بھال کرنے اور بیماری و صحت یابی کے مراحل میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح طبی عملے کے اہل خانہ بھی ان کی طویل ڈیوٹی، رات کی شفٹوں اور خاندانی تقریبات سے محرومی کے باوجود ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے ایوارڈ حاصل کرنے والوں کے خاندانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مدد اور تعاون ان کامیابیوں کا اہم حصہ ہے۔
صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر روشنی ڈالتے ہوئے شیخ نہیان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت طبی ماہرین کو بیماریوں کی تشخیص، طبی تحقیق اور بہتر علاج کے نئے امکانات پیدا کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات ان جدید ٹیکنالوجیز کو ذمہ داری اور عزم کے ساتھ اپنا رہا ہے، تاہم ٹیکنالوجی طبی علم میں اضافہ تو کر سکتی ہے، لیکن ہمدردی، اخلاقی فیصلوں، جواب دہی اور ڈاکٹر و مریض کے درمیان اعتماد کی جگہ نہیں لے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ انسانی اقدار کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اور اس کے بہترین نتائج اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب اسے ماہر اور اخلاقی اصولوں کے پابند افراد استعمال کریں۔
انہوں نے تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے علم اور تجربات کو دوسروں کے ساتھ بانٹیں اور متحدہ عرب امارات میں صحت کی خدمات کے معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں۔ انہوں نے ڈاکٹر تھمبے معین الدین کی مسلسل کوششوں اور معاشرے کی صحت و فلاح کے لیے طبی شعبے سے وابستہ تمام افراد کی خدمات کو بھی سراہا۔
ایوارڈز کے لیے عالمی مشاورتی ادارے نائٹ فرینک نے علمی شراکت دار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ادارے نے سینئر طبی ماہرین، اساتذہ اور صنعتی شعبے کے رہنماؤں پر مشتمل جیوری کے تعاون سے تمام نامزدگیوں کا آزادانہ، آڈٹ شدہ اور میرٹ پر مبنی جائزہ لیا۔ انتخابی عمل کے بنیادی اصول کو واضح کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہیلتھ ایوارڈ خریدا یا کسی کے اثر و رسوخ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے اپنی قابلیت اور کارکردگی سے حاصل کرنا ہوتا ہے۔
تھمبے گروپ کے بانی صدر اور ہیلتھ میگزین کے بانی و ناشر ڈاکٹر تھمبے محی الدین نے کہا کہ ہیلتھ میگزین کا آغاز 1999 میں ہوا تھا اور اسی سے ہیلتھ ایوارڈز کا تصور پروان چڑھا۔ انہوں نے بتایا کہ تھمبے میڈیا شمالی امارات کے بڑے میگزین پبلشنگ اداروں میں شامل ہے اور اس کے تحت ہیلتھ، لیونگ گلف، گلف پیٹس اینڈ ویٹس اور گلف ایجوکیشن سمیت مختلف عنوانات شائع کیے جاتے ہیں، جبکہ گلف کلینری اینڈ ہاسپیٹیلٹی کے نام سے ایک نئے عنوان کی اشاعت بھی متوقع ہے۔ انہوں نے شیخ نہیان بن مبارک النہیان کی مسلسل سرپرستی پر شکریہ ادا کیا اور تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کی۔
واضح رہے کہ سالانہ ہیلتھ ایوارڈز 2026 کا اہتمام ہیلتھ میگزین نے کیا، جو تھمبے گروپ کے ذیلی ادارے تھمبے میڈیا کا اہم اشاعتی عنوان ہے۔ اس تقریب کا مقصد ڈاکٹروں، نرسوں، محققین، منتظمین اور ممتاز طبی اداروں کی ان خدمات کا اعتراف کرنا ہے جو متحدہ عرب امارات اور خلیجی خطے میں صحت کی خدمات کے معیار کو بلند کرنے میں معاون ہیں۔ ایوارڈ یافتگان کی کامیابیوں اور خدمات کو تھمبے میڈیا کے پرنٹ، ڈیجیٹل، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نمایاں کیا جائے گا، تاکہ علاقائی سطح پر ان کی شناخت اور خدمات کو فروغ مل سکے۔
اس تقریب کے مرکزی اسپانسرز میں ماڈرن فارمیسی، ایم پی سی (ماڈرن فارماسیوٹیکل کمپنی)، تھمبے فارمیسی، تھمبے اور سٹی فارماسیوٹیکل کمپنی شامل تھے، جبکہ نائٹ فرینک نے علمی شراکت دار کی حیثیت سے تعاون کیا۔ تقریب کے انتظامات تھمبے میڈیا نے انجام دیے۔