نئی دہلی ، 13/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)سماجوادی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران جمع کیے گئے 2.15 لاکھ روپے دہلی کے کناٹ پلیس واقع ہنومان مندر کو عطیہ کر دیے۔ سماجوادی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، اودھیش پرساد اور راجیو رائے نے مانسون اجلاس ختم ہونے کے بعد مندر کا دورہ کیا اور جمع کی گئی رقم حوالے کر دی۔
اراکین پارلیمنٹ نے بتایا کہ وہ پارلیمنٹ میں مبینہ چندہ چوری کے معاملہ پر بحث چاہتے تھے، انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اس موضوع کو ایوان میں اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے چیف الیکشن افسران کی تقرری کے عمل پر بھی سوال اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ تقرری کا عمل غیر معتبر تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ امیدواروں سے پوچھے جانے والے سوالات کی نوعیت آئین کے خلاف تھی۔ سماجوادی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ان معاملات کو مسلسل اٹھاتے رہیں گے۔
واضح رہے کہ مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے ’مکر دروازے‘ پر اپوزیشن کا مسلسل احتجاج دیکھنے کو ملا۔ ’چندہ چوری‘ کے معاملے پر اپوزیشن حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتی نظر آئی۔ احتجاج کے دوران سماجوادی پارٹی کی جانب سے علامتی چندہ بکس بھی رکھا گیا اور اس کے ذریعے احتجاج کیا گیا۔ اس دوران مانسون اجلاس کے آخری دن جمعرات کو لوک سبھا کی کارروائی پہلی بار پورے ’وندے ماترم‘ کے ساتھ شروع ہوئی۔ قومی نغمے کے 6 بند بجائے جانے کے بعد، لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی اور اجلاس ختم ہو گیا۔
ہنگامے کے درمیان لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ جمعرات کو پارلیمنٹ احاطے میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن، دونوں کی جانب سے زبردست احتجاج دیکھنے کو ملا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے کے بعد اب حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ایک دوسرے پر پارلیمنٹ کے وقت کو ضائع کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔