ناسک ، 11/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)ناسک کے دیولالی پولیس اسٹیشن میں درج ایک معاملے میں گرفتار کی گئی ندا اعجاز خان نے ایڈیشنل سیشن کورٹ میں ضمانت کی درخواست دی تھی۔ ندا سمیت دیگر ملزمین پر شادی کے بہانے جنسی زیادتی، چھیڑ چھاڑ، ذات پات کی بنیاد پر توہین اور جبراً مذہب تبدیل کروانے کا الزام تھا۔ ندا خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شکایت کنندہ اور درخواست گزار ایک دوسرے کو جانتے تھے کیونکہ وہ ایک ہی کمپنی (ٹی سی ایس)میں کام کرتے تھے۔ درخواست گزار نے کبھی بھی متاثرہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔ اہم الزامات شریک ملزمین دانش اور توصیف کے خلاف ہیں۔ نیز، ندا خان ۵؍ ماہ کی حاملہ ہے، اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ انہیں غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھنے سے پیدا ہونے والے بچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا، اسلئے ضمانت منظور کی جائے۔
جبکہ استغاثہ نے اس ضمانت کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ تفتیش کے دوران پتہ چلا ہے کہ تمام ملزمین نے مل کرسازش کی تھی۔ ملزم نے متاثرہ لڑکی کو اس کے مذہبی طرز عمل کے بارے میں `برین واش کیا۔ ندا خان نے شکایت کنندہ لڑکی کو برقع، حجاب اور پیغمبر اسلامؐ کی حیات سے متعلق کتابیں دی تھیں اور اپنے موبائل فون پر اسلامی ایپلی کیشن بھی انسٹال کر رکھی تھیں۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ ملزمہ نے شکایت کنندہ کا نام بدل کر ہانیہ رکھ کر اسے ملائیشیا بھیجنے کی سازش کی تھی اور اس کیلئے مالیگاؤں کے ایک گروپ کی مدد لینے والی تھی۔عدالت نے نوٹ کیا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ ۶۹؍ (جنسی حملہ) اور ۷۵؍ (غیر مہذب حملہ) ندا خان کے خلاف درج نہیں ہے۔ تاہم، پوری تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ دیگر کلیدی ملزمین نے ندا خان کی مدد سے لڑکی کے مذہبی خیالات کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، ہندو دیوی دیوتاؤں کے بارے میں نازیبا تبصرے کرکے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور اسے مذہب تبدیل کروایا۔ لہٰذا، مقدمے کی سماعت کے دوران اس کردار کی تصدیق کی ضرورت ہے۔ تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔ درخواست گزار کی کسی جائیداد کو ضبط کرنے یا تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی استغاثہ نے مزید تفتیش کیلئے اس کی تحویل کی ضرورت کا اظہار کیا ہے۔ مقدمے کی سماعت میں وقت لگے گا، اس لئے درخواست گزار کو جیل میں رکھنے سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا۔عدالت نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ درخواست گزار ۵؍ماہ کی حاملہ ہے۔آنے والے بچےکے جیل میں پیدا ہونے کی بدنامی سے بچنے کیلئے عدالت نے ضمانت دینا ضروری سمجھا۔
ایڈیشنل سیشن جج کے جی جوشی نے ندا خان کو۷۵؍ ہزار روپےکے ذاتی بانڈ (پی آر بانڈ) اور ا اتنی ہی رقم کی کسی اور شخص کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا۔ ساتھ ہی یہ پابندی لگائی کہ کیس کے فیصلے تک، ندا خان کو شکایت کنندہ کے کام کی جگہ یا رہائشی احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وہ گواہ یا کیس سے متعلق کسی بھی شخص سے کسی بھی طرح کا رابطہ نہیں رکھ سکتی۔ نہ ہی ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتی ہے۔ درخواست گزار اپنا موجودہ موبائل نمبر تفتیشی افسر کو فراہم کرے اور پتہ کی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر عدالت اور پولیس کو مطلع کرے۔ پاسپورٹ ایک ہفتے کے اندر تفتیشی افسر کے حوالے کیا جائے اور عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر ملک نہ چھوڑا جائے۔ ضمانت پر رہائی سے قبل اس کے تین خونی رشتہ داروں کے نام، رہائشی پتے اور کام کی جگہ کے پتے کی فہرست ثبوت کے ساتھ پیش کی جائے۔ آپ کو ہر عدالت کی سماعت کی تاریخ پر حاضر ہونا اور تعاون کرنا چاہئے۔یاد رہے کہ اس معاملے کو میڈیا نے خوب اچھالا تھا۔