ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: آئیٹا کا کمپیوٹر اساتذہ کی بھرتی کے مسودہ ضوابط میں ترمیم کا مطالبہ؛ پی یو سی میں کنڑا زبان کی شرط ختم کرنے پر زور

بھٹکل: آئیٹا کا کمپیوٹر اساتذہ کی بھرتی کے مسودہ ضوابط میں ترمیم کا مطالبہ؛ پی یو سی میں کنڑا زبان کی شرط ختم کرنے پر زور

Sat, 11 Jul 2026 18:42:21    S O News
بھٹکل: آئیٹا کا کمپیوٹر اساتذہ کی بھرتی کے مسودہ ضوابط میں ترمیم کا مطالبہ؛ پی یو سی میں کنڑا زبان کی شرط ختم کرنے پر زور

بھٹکل، 11 جولائی (ایس او نیوز): آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرز ایسوسی ایشن (AIITA) نے کرناٹک حکومت سے کمپیوٹر اساتذہ کی بھرتی کے لیے جاری کردہ مسودہ ضوابط میں ترمیم کرتے ہوئے پی یو سی میں کنڑ ا زبان بطور ایک سبجیکٹ  پڑھنے کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آئیٹا  کا کہنا ہے کہ یہ شرط ہزاروں اہل امیدواروں، خصوصاً اُردو میڈیم طلبہ، کو سرکاری ملازمت کے مواقع سے محروم کر سکتی ہے۔

آئیٹا  کے ریاستی صدر محمد رضا مانوی نے محکمۂ اسکولی تعلیم کے پرنسپل سکریٹری کو پیش کردہ اپنے مکتوب میں 29 جون کو جاری نوٹیفکیشن پر اعتراض درج کراتے ہوئے کہا ہے کہ کرناٹک کے پری یونیورسٹی نظام میں کنڑ ا زبان کا مطالعہ تمام طلبہ کے لیے لازمی نہیں ہے، بلکہ طلبہ کو زبان کے انتخاب کی آزادی حاصل ہے۔

بھٹکل میں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئیٹا کے صدر محمد رضا مانوی نے بتایا کہ اُردو میڈیم سے ایس ایس ایل سی مکمل کرنے والے متعدد طلبہ پی یو سی میں انگریزی اور اُردو زبانوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایسے امیدوار بی ایڈ اور کمپیوٹر سبجیکٹ کی تمام مطلوبہ تعلیمی اہلیت رکھنے کے باوجود صرف پی یو سی میں کنڑا  نہ پڑھنے کی بنیاد پر سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار دیے جا سکتے ہیں۔

AIITA نے کہا کہ اگرچہ امیدواروں کے لیے کنڑ ا زبان کا علم ضروری ہونا چاہیے، تاہم اس کے لیے پی یو سی میں کنڑا کا مطالعہ لازمی قرار دینے کے بجائے ایس ایس ایل سی میں کنڑ ا بطور پہلی یا دوسری زبان پڑھنے والے، یا حکومت کی مقررہ کنڑ ا لسانی اہلیت کے امتحان میں کامیاب امیدواروں کو بھی اہل تسلیم کیا جانا چاہیے۔

آئیٹا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسودہ ضوابط پر ازسرِنو غور کرتے ہوئے ان میں ترمیم کی جائے تاکہ تمام اہل امیدواروں کو مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔


Share: