منگلورو 27، / اکتوبر (ایس او نیوز)سٹی پولیس نے گوشت کی قانونی نقل و حمل کرنے والی گاڑیوں کو روکنے والے افراد اور خود ساختہ محافظ گروہوں (vigilante groups) کو سخت تنبیہ جاری کی ہے کہ اس طرح کی رکاوٹ ڈالنا ایک سنگین جرم ہے جس پر 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔
پولیس کا یہ بیان ’بجرنگ دل‘ کی جانب سے انسٹاگرام پر کی گئی ایک پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ تلپاڈی سے جوکٹے تک مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حمل ہو رہی ہے، اور کنکناڈی پولیس پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے اس کی طرف سے دی گئی اطلاع کو نظر انداز کر دیا ۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں کیے گئے دعووں کی تردید کرتے ہوئے پولیس کمشنر سدھیر کمار ریڈی نے وضاحت کی کہ مذکورہ گاڑی میں ذبیحہ کے لیے زندہ مویشی نہیں لے جائے جا رہے تھے، بلکہ اس میں وہ گوشت موجود تھا جسے کیرالہ سے قانونی طور پر خریدا گیا تھا اور شہر کی ایک لائسنس یافتہ دکان پر لایا جا رہا تھا ۔ پولیس نے تصدیق کی کہ گوشت کی اس قانونی نقل و حمل سے متعلق معلومات کی مکمل جانچ پڑتال کر لی گئی تھی۔
انہوں نے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا: "ہم گائے کے ذبیحہ یا مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حمل کے ہر معاملے پر گرفت کریں گے ۔ بس ہمیں اطلاع دینے کی ضرورت ہے۔" اسی کےساتھ انہوں نے قانونی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کرناٹک میں گائے کا ذبیحہ مکمل طور پر ممنوع ہے اور ایک جرم ہے، لیکن قانون قانونی ذرائع سے حاصل کردہ گوشت کی فروخت اور نقل و حمل کی مکمل اجازت دیتا ہے ۔
قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا "جو کوئی بھی کسی بھی قانونی کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا، جیسے گاڑیوں کو روکنا، یا افراد پر حملہ کرنا اور انہیں ڈرانا دھمکانا—تو یہ بھی ایک جرم ہے جس کی سزا 10 سال تک قید ہو سکتی ہے۔"