اڈپی، 31 جولائی (ایس او نیوز): کرناٹک کے ضلع اڈپی کے کارکلا سب ڈویژن میں رشوت ستانی کے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد محکمہ پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے کارکلا کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DySP) ایس وجئے پرساد، سرکل انسپکٹر سندیپ جی ایس اور DySP دفتر کے عملے سے وابستہ شیوانند کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ تینوں اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
رپورٹوں کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کی جانب سے کیے گئے مبینہ اسٹنگ آپریشن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کو پولیس تحفظ فراہم کرنے کے عوض رقم طلب کی جا رہی تھی۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد محکمہ پولیس نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے ذریعے ابتدائی جانچ کرائی۔
اڈپی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہری رام شنکر نے تصدیق کی کہ ابتدائی جانچ میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر تینوں اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات جاری رہیں گی۔
ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، اسٹنگ آپریشن کی ویڈیو میں سرکل انسپکٹر سندیپ جی ایس مبینہ طور پر ایک شخص سے نقد رقم وصول کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جبکہ وہ شخص خود کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے پولیس کی سرپرستی حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ویڈیو نے محکمہ پولیس کی شبیہ کو نقصان پہنچایا اور اسے سرکاری ملازمین کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
اسی رپورٹ کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل و انسپکٹر جنرل آف پولیس (DG&IGP) ایم اے سلیم نے الگ حکم جاری کرتے ہوئے DySP ایس وجئے پرساد کو بھی معطل کیا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ویڈیو میں DySP کو خود رقم وصول کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، تاہم انہوں نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ ایک شخص ان کے دفتر میں رقم دینے آیا تھا اور اس نے مبینہ طور پر رقم ماتحت اہلکار کے حوالے کر دی۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ DySP اس موقع پر قانونی کارروائی کر سکتے تھے، لیکن ایسا نہ کرنا غفلت اور محکمہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
ذرائع کے مطابق تینوں اہلکار معطلی کے دوران محکمہ جاتی تحقیقات کا سامنا کریں گے، جبکہ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ مکمل انکوائری کے بعد ہی مزید قانونی اور محکمہ جاتی فیصلے کیے جائیں گے۔