لکھنؤ، 23/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)مرکزی وزیر جے پی نڈا نے پیپر لیک معاملے پر پریس کانفرنس کی، جس میں حکومت کا موقف پیش کیا اور اپوزیشن کو نشانہ بنایا۔ نڈا کی پریس کانفرنس کے بعد ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے ان پر حملہ بولا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان حکومت نے اچانک یہ پریس کانفرنس بلائی، لیکن محکمہ کسی اور وزیر کا ہے اور کوئی اور جواب دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت نوجوانوں کے اس سنگین مسئلہ پر سنجیدہ نہیں ہے۔ اکھلیش کے مطابق ملک کے طلباء نے اس بحث کو صفر نمبر دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔
اس سے پہلے جے پی نڈا نے پریس کانفرنس کی اور پیپر لیک معاملے پر کانگریس اور پوری اپوزیشن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے راہل گاندھی پر انتخابی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ نڈا نے پوچھا کہ راہل گاندھی نے یو پی اے اور این ڈی اے کی حکومتوں کے دوران جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، تلنگانہ، تمل ناڈو، مغربی بنگال، پنجاب، کیرالہ اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں پیش آنے والے پیپر لیک کے معاملات پر توجہ کیوں نہیں دی۔
جے پی نڈا نے واضح کیا کہ مرکز کی مودی حکومت اس معاملے کو لے کر پوری طرح سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے صرف ایک پارٹی کے نہیں پورے ملک کا مستقبل ہیں۔ حکومت اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔ اپوزیشن جس وقت بھی فیصلہ کرے، چاہے وہ 12 یا 18 گھنٹے کا ہو، حکومت ہر پہلو پر گہرائی سے بات کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وقت الزامات یا بحث کا نہیں ہے کہ کون سی حکومت ذمہ دار ہے۔ پیپر لیک ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کا حل مل کر تلاش کرنا چاہیے۔ نڈا نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کا مقصد تعلیمی نظام کو بہتر بنانا یا طلباء کو انصاف فراہم کرنا نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ سے سیاسی فائدہ اٹھانا ہے۔
جے پی نڈا کے الزامات کے فوراً بعد اکھلیش یادو نے محاذ کھول دیا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ عجلت میں بلائی گئی یہ پریس کانفرنس حکومت کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ جب متعلقہ محکمے کا وزیر جواب دینے کے لیے بھی سامنے نہیں آرہا تو یہ نوجوانوں کے ساتھ مذاق ہے۔ ملک کے طلباء نے حکومت کی اس کوشش کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔