نئی دہلی ، 8/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)ہندوستان میں سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں زیر تعلیم طلبا کی تعداد سے متعلق ایک اہم تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ’یو ڈائس 2025-26 رپورٹ‘ کے مطابق گزشتہ 2 برسوں کے دوران سرکاری اسکولوں میں طلبا و طالبات کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے، جبکہ پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ جاری رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بڑی تعداد میں والدین اپنے بچوں کا داخلہ پرائیویٹ اسکولوں میں کرا رہے ہیں۔
وزارت تعلیم کی ’یو ڈائس 2025-26 رپورٹ‘ کے مطابق تعلیمی سال 24-2023 سے 26-2026 کے درمیان سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کی تعداد میں تقریباً 86 لاکھ کی کمی درج کی گئی ہے۔ یہ تبدیلی ملک کے اسکولی تعلیمی نظام کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں طلبا کی کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرکاری اسکولوں میں داخلے کا رجحان پہلے کے مقابلے میں کم ہوا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی مدت کے دوران سرکاری امداد سے محروم تسلیم شدہ پرائیویٹ اسکولوں میں 88 لاکھ سے زیادہ نئے طلبا و طالبات کا داخلہ ہوا۔ یعنی جس عرصے میں سرکاری اسکولوں میں طلبا کی تعداد گھٹی، اسی دوران پرائیویٹ اسکولوں میں بڑی تعداد میں نئے طلبا شامل ہوئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اب بہت سے خاندان اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے پرائیویٹ اسکولوں کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ’یو ڈائس‘ یعنی ’یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن‘ ملک کے تمام اسکولوں سے متعلق ایک جامع ڈاٹا نظام ہے۔ اس میں ہر سال اسکولوں کی تعداد، طلبا کے داخلے، اساتذہ کی معلومات، اسکولوں میں دستیاب سہولیات اور تعلیم سے متعلق کئی اہم اعداد و شمار شامل کیے جاتے ہیں۔ حکومت اسی رپورٹ کی بنیاد پر تعلیمی نظام کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہے اور آئندہ کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں سرکاری اسکولوں میں طلبا کی تعداد کم ہونے کی کوئی ایک وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ تاہم تعلیم سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ بہتر تعلیم، انگریزی ذریعۂ تعلیم، جدید سہولیات، ڈیجیٹل کلاس روم، بہتر نتائج اور ہم نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے بہت سے والدین نجی اسکولوں کا رخ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کئی ریاستوں میں سرکاری اسکولوں کا انضمام، طلبا کی کم تعداد اور آبادی میں تبدیلی جیسے عوامل بھی ان اعداد و شمار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
’یو ڈائس 2025-26 رپورٹ‘ سامنے آنے کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ان اعداد و شمار کا تجزیہ کریں گی اور سرکاری اسکولوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئی اسکیمیں شروع کر سکتی ہیں۔ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے، طلبا کو معیاری سہولیات فراہم کرنے اور سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھانے کے لیے آئندہ دنوں میں کئی اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سرکاری اور پرائیویٹ دونوں طرح کے اسکولوں میں معیاری تعلیم کی دستیابی سب سے زیادہ ضروری ہے، تاکہ ہر بچے کو بہتر مستقبل بنانے کا یکساں موقع مل سکے۔