بنگلورو، 29/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر برائے صحت، اقلیتی بہبود، اوقاف اور حج یو ٹی قادر نے کینسر کی ادویات کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) میں کمی کرنے کے دوا ساز کمپنیوں کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مہنگے علاج کا بوجھ برداشت کرنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو بڑی راحت ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ادویات کی نئی قیمتوں کی فہرستیں جاری کی جارہی ہیں اور 9 نومبر سے بعض ادویات کی قیمتوں میں تقریباً 70 فیصد تک کمی ہوگی۔
یو ٹی قادر کے مطابق، کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والے بیواسیزوماب (Bevacizumab) 400 ملی گرام انجکشن کی قیمت، جو پہلے 42,000 روپے تھی، اب کم ہوکر 13,136 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح پالبوسیکلب (Palbociclib) گولیوں کے ایک سائیکل کی قیمت 9,787 روپے سے گھٹ کر 3,147 روپے ہوگئی ہے۔
یو ٹی قادر نے کہا کہ کینسر کے علاج کے لیے بہت سے مریض قرض لینے اور اپنی جائیداد رہن رکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں یہ کمی ایسے مریضوں اور ان کے خاندانوں کے مالی بوجھ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
وزیر نے تمام دوا ساز کمپنیوں پر زور دیا کہ قیمتوں میں کمی کے عمل کو جلد از جلد اور شفاف انداز میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے اسٹاکسٹوں، میڈیکل اسٹوروں اور اسپتالوں سے بھی اپیل کی کہ نئی قیمتوں کا فائدہ بلا تاخیر ضرورت مند مریضوں تک پہنچایا جائے، تاکہ انہیں مہنگی ادویات کی وجہ سے علاج میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یو ٹی قادر نے مزید کہا کہ کرناٹک کا محکمہ صحت کینسر، دل اور گردوں جیسی سنگین بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں پر مسلسل نظر رکھے گا، تاکہ مریضوں کو مناسب قیمت پر ضروری دوائیں دستیاب ہوسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر ضرورت مند کو قابلِ برداشت قیمت پر علاج کی سہولت ملنا اس کا حق ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کرتی رہے گی کہ سستی اور معیاری طبی سہولتیں ریاست کے ہر خاندان تک پہنچیں۔