بھٹکل، 4 جولائی (ایس او نیوز): بھٹکل میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کے حفظِ قرآن کی روایت مسلسل فروغ پا رہی ہے۔ جہاں مختلف اسکولوں کے طلبہ عصری تعلیم کے دوران ہی حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، وہیں محلوں کی مساجد کے زیرِ اہتمام قائم شبینہ مکاتب بھی اس مبارک سلسلے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسی سلسلے کی ایک خوش آئند کڑی کے طور پر مخدوم کالونی کی مسجد سعد بن خالد کے زیرِ اہتمام چلنے والے خواتین کے شبینہ مکتب کی طالبہ عائشہ شہرین بنت محمد حسین جوکاکو نے مکتب کی پہلی حافظۂ قرآن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ بھٹکل کے ایک کالج میں پی یو سی اول کی طالبہ ہیں اور عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ شبینہ مکتب سے حفظِ قرآن مکمل کرنے والی پہلی طالبہ بھی بن گئی ہیں۔ اس موقع پر گزشتہ روز مسجد میں ایک پُروقار، روح پرور اور دعائیہ تقریبِ تکمیلِ حفظِ قرآن کریم منعقد کی گئی، جس میں انہیں تہنیت پیش کرتے ہوئے انعامات و تحائف سے نوازا گیا۔ تقریب میں مکتب کی معلمہ اور مختلف دینی و تعلیمی پروگرام پیش کرنے والی طالبات کو بھی گراں قدر انعامات اور تحائف سے نوازا گیا۔
تقریب کے دوران شبینہ مکتب کی طالبات اور خصوصاً نرسری کے ننھے بچوں نے خوبصورت دینی و تعلیمی پروگرام پیش کیے، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔
اس موقع پر جامع مسجد کے خطیب مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی عظمت، اس کی تعلیم، تلاوت اور حفظ کی فضیلت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خواتین میں دینی تعلیم کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تلقین کی۔
جامعۃ الصالحات کی معلمہ نسیما صاحبہ نے طالبہ عائشہ شہرین کا حفظ مکمل کرایا۔ انہوں نے اس عظیم سعادت پر طالبہ، اس کے والدین اور مکتب کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کی۔ بعد ازاں ان کی رقت آمیز دعا کے ساتھ خواتین کا خصوصی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
مسجد سعد بن خالد کے صدر مولانا شجاع الدین نے تمام مہمانوں، شرکاء، منتظمین اور معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مسجد کمیٹی کے ذمہ داران اور محلے کے نوجوانوں کے بھرپور تعاون کو سراہا، جن کی کاوشوں سے تقریب کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔
تقریب میں خواتین اور طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ آخر میں تمام حاضرین کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا اور بابرکت دعا کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔