بنگلورو، 28/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) بنگلورو کے فریڈم پارک میں نیٹ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کے دوران عمر خالد اور شرجیل امام کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پوسٹر دکھانے کی پاداش میں پولیس نے ’’اشتعال انگیزی‘‘ کا الزام عائد کرکے ایک نامعلوم خاتون کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔
پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران خاتون نے ایسے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن میں۲۰۲۰ء کے دہلی فسادات کے مقدمات میں زیر حراست عمر خالد اور شرجیل امام کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان پوسٹروں اور نعروں سے عوامی امن متاثر ہونے کا خدشہ تھا، جس کے بعد متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ احتجاج نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، طلبہ کے خلاف کارروائی اور سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ، سماجی کارکنوں اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
بی جے پی نے اس واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے کانگریس حکومت کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ احتجاج کو’’ملک دشمن عناصر‘‘کی حمایت کے لیے استعمال ہونے دیا گیا۔ پارٹی نے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب احتجاج کے منتظمین نے کہا کہ یہ ایک انفرادی عمل تھا اور اس کا تحریک یا منتظمین کے مؤقف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر بی کے ہری پرساد نے احتجاج کے دوران عمر خالد کی حمایت میں پوسٹر دکھانے کا دفاع کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس پر تنازع کیوں؟ انہوں نے مودی سرکار پر ’’پاکستان ماڈل‘‘ پر کرنے کا الزام لگایا اور صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’عمر خالد کی حمایت میں پوسٹر دکھانے میں آخر کیا خرابی ہے؟‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ ’’عمر خالد کو ۵؍ سال سے جیل میں رکھا گیا ہے۔ چارج شیٹ بھی داخل نہیں کی گئی، کیا یہ پاکستان ہے؟حکومت پاکستان ماڈل پر چل رہی ہے؟‘‘