ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’’این آر سی کی تاریخ بڑھاؤ؛ شہریت کو تباہی سے بچاؤ‘‘:پاپولر فرنٹ کی سپریم کورٹ سے مقررہ وقت میں توسیع کی اپیل

’’این آر سی کی تاریخ بڑھاؤ؛ شہریت کو تباہی سے بچاؤ‘‘:پاپولر فرنٹ کی سپریم کورٹ سے مقررہ وقت میں توسیع کی اپیل

Wed, 26 Dec 2018 10:02:10    S.O. News Service

نئی دہلی25دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی مرکزی سیکریٹریٹ کے اجلاس میں لاکھوں آسامی متاثرین جن کے نام شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) میں شامل نہیں کیے گئے ہیں، ان کی شہریت کو لاحق زبردست تباہی سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ سے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی ۔سپریم کورٹ کی جانب سے اپنے دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ ۳۱؍دسمبر ۲۰۱۸ مقرر کی گئی ہے۔ لیکن این آر سی کے آخری مسودے میں شامل نہیں کیے جانے والے چالیس لاکھ لوگوں میں سے اب تک صرف بیس لاکھ لوگوں کے بارے میں یہ رپورٹ ملی ہے کہ انہوں نے اپنے دعوے اور اعتراضات داخل کیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سامنے خود این آر سی کے کوآرڈنیٹر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس سست رفتاری کی بڑی وجہ اپنے دعوے داخل کرنے کے لیے ضروری مطالبات کی پیچیدگی ہے۔زمینی رپورٹیں یہ بتاتی ہیں کہ این آر سی کے مراکز وراثتی دستاویزات کے نام پر درخواست گذاروں کے سامنے مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ بقیہ پانچ دنوں میں اب تک فہرست میں شامل نہ کیے جانے والے بیس لاکھ لوگ کسی بھی صورت اپنے دعوے داخل نہیں کر پائیں گے۔ اجلاس میں یہ بات کہی گئی کہ اگر اس کی تاریخ میں توسیع نہیں کی گئی ، تو ان شہریوں کی بڑی تعداد آئندہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ نہیں لے پائے گی۔دکھ کی بات یہ ہے کہ ہماری اپوزیشن پارٹیاں بھی پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں اٹھا رہی ہیں۔ کئی ایسی خودغرض پارٹیاں ہیں جو اس خوفناک المیے سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی تاک میں ہیں۔ لیکن یہ بات دستور میں مذکور شہریت کے اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ ملک کو امید ہے کہ عدالت عظمیٰ اس طرح کی ناانصافی ہونے نہیں دے گی۔ ہم سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ این آرسی کے عمل کو آسان بنائے اور دعوے داخل کرنے کی آخری تاریخ میں مزید چھ مہینوں کی توسیع کرے۔چیئرمین ای ابوبکر نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں جنرل سکریٹری ایم محمد علی جناح، نائب چیئرمین او ایم اے سلام، سکریٹری عبدالواحد سیٹھ، کے ایم شریف اور ای ایم عبدالرحمن شریک رہے۔


Share: