لکھنؤ،11؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی)ایک طرف ہندوستان میں کورونا بحران کی وجہ سے ہنگامی حالت ہے، اور دوسری طرف یوگی حکومت نے خاموشی کے ساتھ کابینہ میں گؤکشی سے متعلق قانون میں ترمیم کے لئے آرڈیننس پاس کرا لیا-
ریاستی حکومت نے منگل کے روز کابینہ کی میٹنگ میں گؤکشی روک تھام ترمیم آرڈیننس2020پاس کیا جس کے مطابق اب گؤکشی کے قصورواروں کے لئے قید کی سزا 7 سال سے بڑھا کر10سال کر دی گئی ہے- علاوہ ازیں جرمانہ بھی3 لاکھ سے بڑھا کر5 لاکھ کر دیا گیا ہے-
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق گؤکشی پر یوگی حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے یہ بھی فیصلہ لیا ہے کہ گؤکشی کرنے والوں کے پوسٹر عوامی مقامات پر چسپاں کئے جائیں گے تاکہ لوگ گؤکشی سے باز آئیں - حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد گائے کی نسل کے جانوروں کی حفاظت کرنا اور گؤکشی جیسے جرائم کو پوری طرح سے روکنا ہے-
بتایا جاتا ہے کہ منگل کے روز وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں کابینہ کی آن لائن میٹنگ ہوئی- اس میں مختلف محکموں کی14تجاویز کو منظوری دی گئی- اتر پردیش انسداد گؤکشی (ترمیم) آرڈیننس2020 کے خاکہ کو بھی منظوری دے دی گئی- میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس آرڈیننس کا مقصد اتر پردیش انسداد گؤکشی ایکٹ1955 کو مزید منظم اور اثرانداز بنانا ہے-سرکار نے گؤکشی سے متعلق قانون میں کچھ مزید سختیاں بھی کی ہیں -
خبروں کے مطابق اس قانون کو سخت کرتے ہوئے گائے کی اسمگلنگ میں شامل گاڑیوں کے ڈرائیور، آپریٹر اور مالک کو بھی ملزم بنائے جانے کی بات کہی گئی ہے- جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ مالک کی جانکاری کے بغیر ان کی گاڑی کا استعمال گائے کی اسمگلنگ کے لئے کیا گیا، اس وقت تک انھیں ملزم تصور کیا جائے گا- قبضے میں لی گئی گایوں کے ایک سال تک کھانے پینے کا خرچ بھی قصوروار سے ہی لیا جائے گا-