نئی دہلی،25؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) روس-یوکرین کے درمیان جاری جنگ سے پوری دنیا فکر مند ہے۔ اس دوران ہندوستانی طلبا واپس ہندوستان لوٹنے کا انتظار کر رہے ہیں، اور حکومت ہند کی کوششیں بھی لگاتار جاری ہیں۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ دہلی میں یوکرین کے سفارتخانہ کے باہر کئی طلبا کے والدین پہنچے ہوئے ہیں اور بچوں کی واپسی کی اپیل کر رہے ہیں۔ سفارتخانہ کے باہر کئی مائیں اور بہنیں روتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں اور لگاتار سفارتخانہ کے افسران سے مدد کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ نیہا نامی ایک خاتون اپنے بھائی کی واپسی کرانے سفارتخانہ پہنچی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’گزشتہ سال ہی میرا بھائی ایم بی بی ایس کی پڑھائی کرنے یوکرین گیا تھا، لیکن گزشتہ دو دنوں سے ہماری بات نہیں ہوئی تو ہم سب گھبرا گئے ہیں۔ سفارتخانہ کے لگاتار چکر لگا رہے ہیں۔ میرے بھائی نے کل رات ہی بتایا کہ بجلی، پیسہ کچھ نہیں ہے۔ وہ ڈرا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ جلد سے جلد ہندوستان بلایا جائے۔ میرے بھائی کے علاوہ اس کے کئی دوست بھی پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘
نیہا کا کہنا ہے کہ سفارتخانہ پہنچے تو ہمیں بول دیا گیا ہے کہ آپ وزارت جائیے۔ میری حکومت سے گزارش ہے کہ سبھی بچوں کو یوکرین سے نکالا جائے۔ سفارتخانہ کے باہر طلبا کے رشتہ دار افسران سے ملنے کی ضد پر قائم رہے، ساتھ ہی طلبا کے گھر والوں نے متنبہ کیا کہ وہ یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔ حالانکہ کچھ وقت بعد سفارتخانہ کے افسران نے ان لوگوں کو اندر بلا کر ان سے بات کی۔
سفارتخانہ کے باہر ایک والد نے یوکرین میں پھنسے اپنے بچے سے ویڈیو کال پر بات کی اور بات کرتے کرتے آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ کچھ دیر بعد بچے کے والد نے صبر بنائے رکھنے کی بات کہی اور بیٹے سے خود کو محفوظ جگہ رکھنے کی بات کہی۔ اس درمیان کئی ہندوستانی طلبا کے والدین روسی سفارتخانہ کے باہر بھی جانے کا ارادہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق شام کو وہ روسی سفارتخانہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہاں بھی مدد کی اپیل کی جا سکے۔