کانپور، 23 جون (آئی این ایس انڈیا) یوپی کے ضلع کانپور ضلع کے سرکاری شیلٹر ہوم میں متعدد لڑکیوں کے کورونا مثبت اور حاملہ ہونے کا معاملہ اب الہ آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل ڈاکٹر فاروق خان نے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط ارسال کیا ہے جس میں اس معاملے کی اعلی سطح پر تحقیقات اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط کو بطور پی آئی ایل لیتے ہوئے انہوں نے حکومت اور کانپور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ضروری ہدایات دیں۔ اس خط میں پی آئی ایل نے ہائی کورٹ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پورے معاملے کی نگرانی کرے۔ خط کو سواو موٹو کے طورپر بھی لینے کی اپیل کی گئی ہے۔
بتادیں کہ گذشتہ دنوں کانپور شیلٹر ہوم کی تمام نابالغ لڑکیاں کورونا سے متاثرپائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ ایک لڑکی کو ایچ آئی وی اور ایک لڑکی ہیپاٹائٹس سی سے متاثر تھی، بہت سی لڑکیاں حاملہ بھی پائی گئیں۔ چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کوانصاف کے خلاف بتایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کی نگرانی میں چلائے جانے والے شیلٹر ہوم کے انتظامات پر بھی خط میں سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔یوپی کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو بھی نوٹس بھیج کر معاملہ میں جواب طلب کیاگیاہے۔ ادھر انتظامیہ کی جانب سے اب تک کی جانے والی تحقیقات میں بہت سے انکشافات ہوئے ہیں۔ تاہم ہائی کورٹ نے ابھی تک اس درخواست کو سماعت کے لئے منظور نہیں کیا ہے۔ اس خط کی عرضی چیف جسٹس کے سامنے رکھی جائے گی، اگر چیف جسٹس اسے ضروری سمجھتے ہیں تو اس خط کو بطور پی آئی ایل قبول کرتے ہوئے یاتوخودسماعت کریں گے اور یا کسی اور بنچ کو نامزد کرسکتے ہیں۔