ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یورپین یونین کے 27ارکان پارلیمان کا دورہ جموں کشمیر "میچ فکسنگ "ہے: ایس ڈی پی آئی 

یورپین یونین کے 27ارکان پارلیمان کا دورہ جموں کشمیر "میچ فکسنگ "ہے: ایس ڈی پی آئی 

Tue, 29 Oct 2019 19:32:27    S.O. News Service

نئی دہلی،29/اکتوبر (ایس او نیوز/ پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے آرٹیکل 370کے تحت جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعدزمینی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے یورپین یونین کے 27ارکان پارلیمان جن میں سے 22ارکان کا تعلق انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں سے ہے ان کو حکومت ہند کی طرف سے دورہ جموں کشمیر کی اجازت دئیے جانے کو میچ فکسنگ قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے ایک بیان میں سوال کیا ہے کہ اگر آرٹیکل 370کو ختم کرکے کشمیر کو ہندوستان میں ضم کردیا گیا ہے تو پھر ہندوستانی سیاست دانوں کو ریاست کے دورے سے کیوں روکا گیا؟۔ اس کے بجائے، جی ای او کے ذریعہ دائیں بازو اور فاشسٹ جھکاؤ رکھنے والے یورپی یونین کے ارکان پارلیمان کے ایک گروپ کوجموں کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایم کے فیضی نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن جموں کشمیر میں کیا دیکھیں گے اور وہ کس کو رپورٹ کریں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ یورپین یونین کے ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے جعلی توثیق حاصل کرکے کشمیر کے حالت زار کے بارے میں دنیا کو دھوکہ دینے کیلئے ایک منظم ڈرامہ کیا جارہا ہے۔ مودی حکومت دائیں بازو کے قانون ساز جن کے دورے کی مالی معاونت کی گی ہے ان سے جموں کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہونے کا سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلے کوئی بھی غیر ملکیوں کو ہندوستان میں آکر ہندوستانی داخلی معاملات پر رائے دینے کی دعوت دینے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ حکومت نے دعوی کیا ہے۔ اگر ایسا کرنا ضروری ہے تو پھر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام وفد کو کیوں نہ اجازت دی جائے جس میں ہرملک کا نمائندہ موجود ہو؟۔ کیا مودی سرکار کو ایسا کرنے کی ہمت ہے؟۔ایم کے فیضی نے سوال کیا ہے کہ اگر کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے ملک کے اپوزیشن پارٹیوں کو کیوں اجازت نہیں دی جارہی ہے؟۔ جن اپوزیشن پارٹیوں کو لیڈروں کو کشمیر جانے کی اجاز ت نہیں دی جارہی ہے وہ منتخب ہیں اور ان کا انتخاب ہندوستانی عوام نے کیا ہے۔ ان کو کشمیر جانے کی اجازت نہ دینا یقینی طور پر ہندوستانی جمہوریت کا مذا ق ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ کے آنے والے وفد میں سے کچھ کا ٹریک ریکارڈ بہت داغدار ہے۔ ہندوستان کا دورہ کرنے والے یورپی پارلیمنٹ کے 27ارکان میں سے کم از کم 22کا تعلق برطانیہ، فرانس، اٹلی، پولینڈ، جمہوریہ چیک اور سلواکیا میں دائیں بازو یا انتہائی دائیں باز و کی جماعتوں سے ہے۔ وہ اٹلی میں بڑے پیمانے پر امیگریشن مخالف ہیں، برطانیہ میں Brexitکے حق میں ہیں۔ وہ نقل مکانی کے خلاف ہیں اور ان کا تعلق فرانس میں میرین لی پین کی پارٹی سے ہے۔فیضی نے مزید کہا ہے کہ پینل میں شامل درج ذیل کا ٹریک ریکارڈکئی وجوہات کی بنا پر داغدار ہے۔ 1)۔ پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز جسے نازی نظریات سے بدسلوکی کرنے پر یورپین یونین کے نائب صدر کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔ 2)۔فرانس سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز جو روسی عہدیداروں کے ہمراہ تھے اور انہوں نے 2014میں کریمیا کے روسی الحاق کی تائید کی تھی۔ ان پر یہ الزام بھی عائد کیاگیا تھا کہ آذر بائیجان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر انہوں نے خاموشی اختیار کی تھی اور انہیں حکمران الویو حکومت سے معافی مانگنے والا سمجھا جاتاہے۔ 3)۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک قانون ساز جس نے“#WhyNotSvastika”ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئیٹ کیا تھا۔وہ نازی سے وابستہ سواستیکا کی علامت کا حوالہ ہے۔ قانون ساز ایمریزون پر دستیاب سویت تجارتی سامان کے خلاف احتجاج میں شامل ہوا تھا۔4)۔ ایک اور قانون ساز جس نے ایک ٹوئیٹ میں تعجب کیا کہ ہولو کاسٹ کے باوجود اسقاط حمل کرنے والوں میں اتنے یہودی کیوں ہیں۔ جس نے غم و غصے کو جنم دیا۔ 5)۔ Ryszard Czarneckiنے فروری 2018میں ایک سیاستدان کے خلاف بولنے پر یونین پارلیمنٹ کے نائب صدر کے عہدے سے برطرف کردیا گیا۔ یورپی پارلیمنٹ کے قانون سازوں نے Czarneckiکو برخاست کرنے کے حق میں 447- 196ووٹ دیا۔ 6)۔  Joanna Kopcinskaکو جنوری 2018میں پولینڈ حکومت کی خاتون ترجمان ہونے کے ناطے، انہوں نے پولینڈ کے قانون سازوں کے اس اقدام کا دفاع کیا جس کی وجہ سے پولینڈ کو تجویزغیر قانونی ہوجائے گا کہ اس کے سر زمین پر نازی جرمنی کے ساتھ ہونے والے انسانیت کے خلاف جرائم کی کوئی ذمہ داری قبول نہ کرے۔ 


Share: