نئی دہلی،14؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی) نیپال کی پارلیمنٹ نے ہفتہ کے روز اس آئینی ترمیمی بل کوپاس کردیا،جس پر ہندوستان نے سخت اعتراض کیاتھا- اس کے بعد اس ہمالیائی ملک کا نقشہ بدل گیا ہے۔ نیپال کی ایوان نمائندگان میں یہ نقشہ دو تہائی اکثریت سے پاس ہوا ہے- نیپال کی پارلیمنٹ میں پاس ہوا یہ نقشہ متنازعہ ہے، جس میں ہندوستان کے3 علاقے لمپیا دھرا، کالاپانی اور لپولیکھ بھی شامل کئے گئے ہیں - ہندوستان نے 20 مئی کو اس نقشے کو مسترد کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا تھا- تاہم 11 جون کو اس ووٹنگ سے دو دن پہلے، ہندوستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے اس سے منسلک سوالات اور کھٹمنڈو سے کسی بھی طرح کی بات چیت کو درکنار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس پر پہلے ہی اپنا موقف واضح کر چکے ہیں اور ہندوستان کے ساتھ نیپال کی تہذیب وثقافت اور دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیا ہے۔
ان حقائق کے باوجود اس بیان سے ایک دن پہلے نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے کہا کہ اگر ہندوستان نے بات چیت کیلئے زیادہ خواہش کا اظہار کیا تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے-اس درمیان انوراگ شریواستو نے کووڈ-19 وبا سے لڑنے میں ہندوستان کے ذریعہ نیپال کو دی جانے والی مدد پر روشنی ڈالی- انہوں نے کہاکہ ہم نے نیپال کو تقریباً 25 ٹن میڈیکل اشیاء فراہم کی ہیں، جن میں پیراسیٹا مال اور ہائیڈروکسیکلوروکین دوائیں، چیک اپ کٹ اور دیگر میڈیکل سے جڑی اشیاء شامل ہیں ’- نیپال ان ممالک کی پہلی فہرست میں تھا، جن کے لئے ہندوستان نے لائسنس کلاس میں لے جانے کے بعد HCQ کے ایکسپورٹ کو منظوری دے دی تھی- انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے انسانی بنیاد پر بیرون ملک میں پھنسے نیپالی شہریوں کو واپس لانے میں مدد کی تھی- سب سے ضروری، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہندوستانی حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ دونوں طرف سے جاری لاک ڈاؤن کے باوجود نیپال کو تجارت اور ضروری اشیا کی سپلائی میں کوئی ناخوشگوار مداخلت نہ ہو-
سال 2015 میں ہوا تھا اختلاف:سال 2015 میں سپلائی میں ہوئی رکاوٹ کے بعد ہندوستان اور نیپال کے درمیان ایک سنگین اختلاف پیدا ہوگیا تھا ہندوستان نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے نیپال کے خلاف کسی بھی ناکہ بندی کی گزارش کی تھی اور مسلسل اس بات پر زور دیا تھا کہ مدھیش کے مظاہرین نے سرحدوں کو روک دیا ہے، جس سے ہندوستان میں ضروری اشیاء والے ٹرکوں کی سپلائی میں رکاوٹ آ رہی ہے- حالانکہ نیپال نے ہندوستان پر ایک اقتصادی ناکہ بندی کی طرف بڑھنے کا الزام لگایا، جس کے بعد اس کی پہاڑی آبادی جو ہندوستان سے رسوئی گیس اور دیگر ضروری اشیاء کی سپلائی پر منحصر تھی، اس کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا تھا-