مہندرگڑھ ؍سرینگر، 3فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ملک میں کشمیر ی طلبہ پرحملے کا واقعہ ایک بار پھر سامنے آیاہے۔ابھی تازہ معاملہ ہریانہ کے مہندرگڑھ ضلع کے مسانی چوک کاہے، جہاں پر کچھ نامعلوم افراد نے دوکشمیری طلبہ پرحملہ کر دیا۔یہ کشمیری نوجوان ہریانہ سینٹرل یونیورسٹی میں جغرافیہ کے طالب علم ہیں۔اس حملے میں بری طرح زخمی ہوئے ایک کشمیری طالب علم جاوید اقبال جگل نے ٹوئٹ کرکے اس کی اطلاع دی۔مظلوم طالب علموں کی شکایت پر ہریانہ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیاہے۔مظلوم کشمیری طالب علم نے اپنے ٹوئٹس کے ساتھ جموں و کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی، سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ، مرکزی وزارت داخلہ، وزیر اعظم نریندر مودی اور جموں و کشمیر پولیس کو بھی ٹیگ کیا ہے۔جاویداقبال جگل نے کہاہے کہ ہم ہریانہ مرکزی یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور جمعہ کو جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے کیمپس سے باہر گئے تھے، تبھی کچھ لوگوں نے ہماری پٹائی شروع کر دی۔جگل نے ٹوئٹر پر حملے میں زخمی ہونے کی تصاویر بھی شیئر کی ہے۔شکار طالب علموں کے ٹوئٹس کے بعد رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے،اورروایتی جملے کہے ہیں۔معاملے میں سخت کارروائی کرنے کو کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے حیران ہیں کہ ہریانہ کے مہندرگڑھ میں کشمیری طالب علموں پر حملہ کیا جا رہا ہے۔جموں و کشمیر پولیس نے بھی اس واقعے پر الگ سے ایک ٹویٹ کیاہے۔جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ وہ اس واقعہ کو لے کر ہریانہ پولیس کے رابطے میں ہے،ہریانہ پولیس نے مختلف دفعات کے تحت ایک کیس درج کیا ہے۔وہیں نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے ٹوئٹ کرکے اس واقعہ کو خوفناک بتایاہے۔انہوں نے کہا کہ لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی نے جو بات کہی، یہ واقعہ اس کی روح کے خلاف ہے،ساتھ ہی عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ ہریانہ انتظامیہ اس تشدد کے خلاف جلد کارروائی کرے گی۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اس حملے کی سخت تنقید کی جا رہی ہے۔اس سے پہلے اپریل 2017میں کشمیری طالب علموں سے مارپیٹ کے واقعات کی مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے تیکھی تنقید کی تھی۔میواڑ اور میرٹھ میں کشمیری طالب علموں پر حملے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیری بھی ملک کے شہری ہیں،ان کے ساتھ بھائی چارہ دکھانا چاہئے،ساتھ ہی وزیر داخلہ نے ملک کی تمام ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ کشمیریوں کو سیکورٹی مہیا کرائیں۔