ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہجومی تشدد کیخلاف ممبئی میں مظاہرہ،قانون سازی کی مانگ 

ہجومی تشدد کیخلاف ممبئی میں مظاہرہ،قانون سازی کی مانگ 

Sun, 30 Jun 2019 11:36:22    S.O. News Service

ممبئی،30؍جون (ایس اونیوز؍ایجنسی) جھارکھنڈ میں ہجومی تشدد میں تبریز انصاری کی موت اور ملک بھر میں اس طرح کی واردات میں اضافے کے خلاف سنیچر کو ممبئی میں اسوسی ایشن فارڈ پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے بینر تلے منعقدہ مظاہرے میں حکومت سے جہاں اس ضمن میں سپر یم کورٹ کے رہنما خطوط پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا وہیں نفرت کے خلاف اس لڑائی کو محبت سے جیتنے کا عزم بھی کیا گیا ۔

ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں منعقدہ اجلاس میں اے پی سی آر اور چھوٹی بڑی 19؍تنظیموں کے اراکین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندے شریک تھے ۔ شہر میں شدید بارش کے باوجود اکٹھا ہونے والے ذمہ دار افراد کی بھیڑ میں دلت لیڈر بھی شامل تھے ۔ ’تبر یز کو انصاف دو ، قاتلوں کو پھانسی دو‘‘ کے نعروں کےبیچ دلت لیڈر امول مڈامے نے لنچنگ کی ان وارداتوں کی مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے رویے کو اس کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا ۔ انہو ں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی مذمت کرتے ہوئے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ’’یہ دن جلد ہی چلے جائیں گے۔‘‘ انہوں نے ہجومی تشدد کے واقعات کو ایک سازش کا حصہ قراردیا اور کہا کہ ’’وہ چاہتے ہیں کہ ہم نفرت اور تشدد پر آمادہ ہوجائیں لیکن نہیں ، ہم محبت سے اس جنگ کو جیتیں گے ۔‘‘

اس موقع پر حکومت سے ہجومی تشدد کے روک تھام کیلئے سپریم کورٹ کے ذریعہ دیئے گئے رہنما خطوط پر عمل در آمد کرنے اور قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا ۔ اسٹیج جس پر جلی حروف میں ’اسٹاپ ماب لنچنگ ‘ درج تھا سے خطاب کرتے ہوئے اے پی سی آر کے صدر اور ماہر قانون داں ایڈویکٹ یوسف حاتم مچھالا نےکہا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ یہ دشمنی دوستی میں بدلے گی۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ کھائی گہری نہ ہونے دیں ، مل جل کر ایک پل بنائیں اور پر امن طریقہ سے ایسا معاشرہ تشکیل دیں جس میں لوگ بلاخوف زندگی گزارسکیں ۔ ‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’اس تعلق سے سپریم کورٹ کی سفارشات کو نافذ
کرایا جائے۔‘‘

سی پی ایم (ممبئی ) کے جنرل سکریٹری پرکاش ریڈی نے ہجومی تشدد کی مسلسل رونما ہونے والی وارداتوں کے لیے مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ’’ہندوتووادی طاقتیں ہمیں حب الوطنی کادرس نہ دیں۔ ہجومی تشدد دراصل دستور پر حملہ ہے۔ یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔‘‘ رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ ’’وزیراعظم مودی نیوزی لینڈجاکر سیکھیں کہ ’سب کا وکاس اور سب کا واشواس ‘ کیسے جیتا جاتا ہے۔‘‘

مولانا محمود خان دریا بادی نے قرآنی پیغام کے حوالہ سے کہا کہ ’’نہ ڈرو، نہ خوف کھاؤ تم ہی غالب رہوں گے ۔‘‘ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ ’’اپنی تاریخ کو یادرکھوں او حوصلہ نہ ہارو۔‘‘ 

جماعت اسلامی حلقہ خواتین رکن ممتاز نذیر نے کہا کہ ’’ہندو مسلمان مل جل کر رہتے تھے لیکن اب ماحول کو بگاڑا جارہا ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ اس ملک میں بسنے والے امن پسند ایسی طاقتوں کو ناکام بنادیں گے۔‘‘مظاہرے میں خواتین کی خاصی تعداد موجود تھی۔

مولانا اعجاز کشمیری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس ملک کو امن کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ یقین ہے کہ ہم سب مل کر نفرت کو ختم کر کے رہیں گے۔‘‘ ڈاکٹر عظیم الدین نے کبھی گئورکشک کے نام پر تو کبھی جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کر کے ہونے والی ہجومی تشدد کی وارداتوں کو پوری دنیا میں  ہندوستان کی بدنامی کا باعث قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان گئو رکشکوں نے ساری دنیا میں ملک کو بدنام کیا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ عام ہندومسلمان کو نہیں ماررہا ہے بلکہ کچھ غنڈے اور پیڈورکر ہیں جو حیوانیت پر آمادہ ہیں۔‘‘ اس موقع پر شہریار خان، فرقان خان، جناردھن جنگلے، عامر ادریسی ، مولانا ظہیرعباس رضوی، سلیم الوارے ، رمیش کدم، ورشا ودیاولاس ، راشد عظیم اور عبدالحسیب بھاٹکر نے بھی اظہار ِ خیال کیا۔  


Share: