نئی دہلی،یکم فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ گروگرام نماز معاملے میں ہریانہ کے افسران پر توہین عدالت کی عرضی پر جلد ہی سماعت کے لیے تیار ہے۔ چیف جسٹس (سی جے آئی) این وی رمنا نے کہا کہ وہ مناسب بنچ کے سامنے کیس کی فہرست دیں گے۔ راجیہ سبھا کے سابق ممبر پارلیمنٹ محمد ادیب نے یہ عرضی دائر کی ہے۔
قبل ازیں ایڈوکیٹ اندرا جیسنگ نے جلد سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہریانہ کے حکام کے خلاف فرقہ وارانہ واقعات کو روکنے میں ان کی عدم فعالیت پر توہین کی کارروائی کی گئی ہے۔ یہ اخباری خبروں پر مبنی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے احتیاطی تدابیر بتائی ہیں۔ ہم نے بہت سی شکایات بھی کی ہیں ہم کوئی ایف آئی آر درج کرنے کو نہیں کہہ رہے ہیں۔
راجیہ سبھا کے سابق رکن کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہریانہ کے افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی مانگ کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہریانہ حکومت کے افسران فرقہ وارانہ اور پرتشدد کو روکنے کے اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ نفرت انگیز جرائم کی صورت میں نکلتا ہے۔درخواست میں ہریانہ ریاست کے چیف سکریٹری سنجیو کوشل آئی اے ایس اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل پی کے اگروال آئی پی ایس کے خلاف کارروائی کی مانگ کی گئی ہے۔