بنگلورو،22؍اگست (ایس او نیوز) بنگلورو کے کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی علاقے میں پیش آنے والے پُر تشدد واقعات کے بعد ان علاقوں سے جن نوجوانوں کوگرفتار کیا گیاتھا ان میں سے بیشتر کے والدین کا کہنا ہے کہ یہ بے قصور ہیں اور ان کو فوری طور پر رہا کردیا جائے۔ جن نوجوانوں کو پولیس نے حراست میں لیا ہے ان کی جانکاری والدین یا رشتہ داروں کو دینے کے لئے کارروائی کی شروعات کردی گئی ہے۔ جمعہ کے روز ڈی جے ہلی پولیس تھانے میں پولیس کی طرف سے ان تمام والدین کو طلب کیا گیا جو بار بار پولیس تھانوں اور حکام سے رجوع کرتے رہے۔
بتایا جاتا ہے کہ پولیس حکام کی طرف سے گرفتار شدہ نوجوانوں کی دستاویزات طلب کر کے ان کی گرفتاری کے بارے میں جانکاری فراہم کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس حکام سے اس سے پہلے بارہا نمائندگی کی گئی اور ان سے کہا گیا تھا کہ اگر کسی نوجوان کو شبہ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے اور اس کا پولیس تحویل میں رہنا ضروری ہے تو ان کو کہاں گرفتار کر کے رکھا گیا ہے اس کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ جبکہ قانون کے تحت پولیس پر یہ لازم ہے کہ کسی بھی ملزم کی گرفتاری کے 24گھنٹوں کے اندر اس کے متعلقین کو یہ بتا دیا جائے کہ ملزم کو کس لئے گرفتار کیا گیا ہے اور اسے کہاں قید میں رکھا گیا ہے۔ لیکن ڈی جے ہلی معاملہ میں نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے آٹھ دن بعد بھی ان کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔
اس کے بعد شہر کے پولیس کمشنر کمل پنت اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے پولیس تھانے کے حکام کو ہدایت دی کہ جن نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کے بارے میں متعلقین کو جانکاری دے دی جائے۔ البتہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بے قصوروں کی رہائی کے سلسلہ میں جو بارہا نمائندگی کی گئی ہے پولیس حکام نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے اور جتنے نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ا ن میں سے صرف چند کو ہی دستاویزات وغیرہ کا جائزہ لینے کے بعد رہا کیا گیا ہے۔لیکن نوجوانوں کی اکثریت جن کو گھروں سے اٹھایا گیا اب بھی پولیس کی حراست میں ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ پہلے تو پولیس حکام نے بتایا کہ ان نوجوانوں کو مقامی پولیس نے نہیں بلکہ باہر سے طلب کر کے یہاں تعینات کی گئی ریزرو پولیس اور مرکزی دستوں کے جوانوں نے گرفتار کیا تھا، تاہم اس سلسلہ میں جب قانونی دفعات کا حوالہ دے کر جب استدلال کیا تو اس کے بعد پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے مقامی پولیس حکام کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ گرفتار شدہ نوجوانوں کے رشتہ داروں کو بتادیا جائے کہ گرفتاری کن دفعات کے تحت کی گئی ہے،ان تمام پر کونسامقدمہ درج ہوا ہے اور ان کو کس جیل بھیجا گیا ہے۔ پولیس تھانے کے باہر بڑی تعداد میں خواتین او ر مرد جمع تھے۔ ان تمام کو یکے بعد دیگرے طلب کر کے انہیں جانکاری فراہم کی گئی۔