نئی دہلی، 07 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں بات کرنے کے بعد بدھ کو راجیہ سبھا میں بات کی۔ وزیر اعظم راجیہ سبھا میں رام ناتھ کووند کے خطاب پر شکریہ اداکرنے کے دوران خطاب کررہے تھے۔مودی نے کہاکہ میں نے سنا کہ غلام نبی آزاد یہاں خاندان پر تبادلہ خیال کررہے تھے، اپنی حکومت کا کام بتا رہے تھے، باہرانہیں کوئی سنتانہیں، اس لئے وہ یہاں بول رہے تھے۔آپ نے یہاں آیوش مان بھارت کی بات کی، آپ نے امریکہ اور برطانیہ کی مثالیں دی ۔ ان میں اور ہم میں زمین آسمان کافرق ہے،50 سال اقتدارمیں رہنا اور زمین سے کٹ جانا فطری بات ہے،اس لئے آپ ایسی باتیں کرتے ہیں، یہ منصوبہ ملک کے لئے ہے، کسی پارٹی کے لئے نہیں ہے، تمام پارٹیاں اس کا مطالعہ کریں، اس میں کوئی کمی ہے تو مشورہ دیں، ہم بہتری کریں گے۔اپوزیشن پرحملہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر میں 9 بناؤں توادھر بیٹھے کئی لوگوں کو 6 دکھے گا، اس میں میری کیا غلطی ہے؟ اب بتائیے ،’’ایزآف ڈروئنگ بجنس‘‘کی ریکنگ میں بہتری ہوناغلط بات کیسے ہے؟ہم حملہ بولناممکن نہیں تو آپ درجہ بندی ایجنسی پر حملہ بول دیتے ہیں، آپ سب کی برائی کیجئے، آپ کا جمہوریت میں حق ہے، آپ میرے بال نوچ لیجئے، لیکن آپ میری برائی کر تے کرتے ملک کی برائی کردیتے ہیں۔وویکانند نے بھی ’ینگ انڈیا‘‘ کی بات کی تھی، گاندھی جی نے بھی نئے بھارت کی بات کی تھی، صدر نے بھی یہی کہاہے، آپ کہتے ہیں کہ آپ کونیوانڈیا نہیں چاہئے،ٹھیک ہے،مجھے بھی گاندھی کا ہندوستان چاہئے، گاندھی نے کہاتھا کہ آزادی مل چکی ہے، اب کانگریس کی ضرورت نہیں ہے،اس لئے کانگریس مکت بھارت کا خیال وہیں سے آیاہے۔مودی نے کہاکہ آپ کوکون ساہندوستان چاہئے ؟بوفورس گھوٹالے والا، دوسرے گھوٹالے والاہندوستان چاہئے۔بڑا درخت گرنے کے بعدزمین ہل جاتی ہے، کیا ایساہندوستان چاہئے؟ ہزاروں لوگوں کی موت کے گنہگارکوجہاز میں بیٹھاکربیرون ملک لے جایاجائے،کیاایساہندوستان چاہئے؟، ڈاووس میں آپ بھی گئے ، ہم بھی گئے، ہمارے جانے کا اثر دیکھئے، آپ کو ہمارا نیوانڈیا نہیں چاہئے۔
ہم گیم چینجر ہیں، مقصد کا پیچھا کرتے ہیں، اسے برقرار رکھنے کے لئے محنت کرتے ہیں، کانگریس کاترسنافطری ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو واہ واہی چاہئے، آپ کی حکومت میں 15 اگست کو لال قلعہ میں جتنے بھی وزیراعظم رہے ان کی تقاریرمیں کسی اور حکومت کااورریاستی حکومت کا ذکر نہیں کیا گیا ، صرف میں کہتا ہوں کہ ملک کواس مقام تک پہنچانے کیلئے تمام حکومتوں اور تمام ریاستی حکومتوں کااہم تعاون ہے، ہم تڑپتے نہیں ہیں کہ آپ اٹل جی کا نام لیں، اگر آپ ٹھیک محسوس کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے۔انہوں نے مزیدکہاکہ2014 سے پہلے جو ہوا،سب آپ کے کھاتے میں آئے گا؟ بچپن میں، ہم یہ دیکھتے تھے کہ بچے کھیلتے کھیلتے لڑجاتے تھے، ہم سوچتے تھے کہ لڑائی کیوں ہوتی ہے، بعد میں یہ پتہ چلتا تھا کہ جس کے ہاتھ میں بلاہوگاوہ کھیلے گا، اگر وہ آؤٹ ہو گا توکھیل نہیں ہو گا، آپ کی بھی یہی خواہش ہے آپ کوہمیشہ بیٹنگ ملے۔کانگریس ایم پی رینوکاچودھری کے شورکرنے پر جب چیرمین اور نائب صدر وینکیانائیڈو نے ان سے خاموش رہنے کے لئے کہاتومودی نے کہاکہ صدرجی،آپ رینوکاجی کوکچھ مت کہئے۔رامائن سیریل کے بعد آج ایسی ہنسی سننے کاموقع ملاہے۔مودی نے کہاکہ آدھارکارڈ20سال پہلے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری اور وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی کا ویژن تھا۔ آج کانگریس نے اس کا کریڈٹ لینے کی بہت کوشش کی ہے۔ آنند شرما جی! آپ توبرف کاچھوڑابناکربھونک سکتے ہیں اور پتہ بھی نہ چلے، غیراعلانیہ جائیداد کا قانون منظور ہوگیاتھا لیکن کچھ نہیں ہواتھا، اب تک ہم نے 3500 کروڑغیراعلانیہ اثاثوں کو پکڑا ہے، اگر آپ کے وقت اتنی غیراعلانیہ جائیدادبنی تو اس کاکریڈٹ بھی آپ کوجاناچاہیے۔ جی ایس ٹی کی آپ نے مخالفت کی، پھر کہا کہ ہم نے شروع کیا، نیم کوٹنگ پر آپ نے کہا کہ ہم نے شروع کیا، آپ نے تمام منصوبوں کو بیچ میں چھوڑ دیا، اس کا نقصان زیادہ ہوتا ہے، اب یوریا بیرون ملک سے آتا ہے اور اس کی بھی بیم کوٹنگ ہوتی ہے، جب میں وزیراعلیٰ تھا تو میں ہر سال پی ایم کویوریاکیلئے خط لکھنا چاہتا تھا، جب میں پی ایم بناتب بھی خطوط آتے تھے مگراب نہیں آتے۔منصوبہ پوراہونہ ہولوگوں کی عادت ہے کہ پتھر جڑ دیتے ہیں، ہم نے ریلوے بجٹ کو روک دیا، کیوں؟ میں نے دیکھا کہ 1500 کروڑ روپے کے بجٹ کا اعلان ہوگیا ہے لیکن اس کاکچھ پتہ ہی نہیں تھا،بس پارلیمنٹ میں تالیاں بج گئیں، اخبار میں شائع ہوگیا، بس ہوگیا، میں نے دیکھا کہ 30۔40 سال پرانے منصوبوں کاپتھرجڑچکاہے لیکن کچھ نہیں ہوا لیکن میں نے 9 لاکھ کروڑ روپے سے زائد معلق منصوبوں کو صاف کیا، ہم کام روکنے نہیں آئے ہیں،آپ کے لگے پتھرتوکئی جگہ چوری بھی ہوگئے ہیں۔