بنگلورو،4؍فروری (ایس او نیوز) پچھلے کئی دنوں سے سیاست سے دور اپوزیشن کانگریس لیڈر سدارامیا اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ ایچ ڈی کوٹے کے کبنی بیک واٹر ریسارٹ میں آرام اور موج مستی کرنے کے بعد بنگلورو لوٹ آئے ہیں۔ان کے ساتھ چند کانگریس لیڈر ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا، ایچ پی منجوناتھ، کے وینکٹیش بھی تھے۔ ان کی واپسی کی اطلاع کے بعد کئی کانگریس لیڈروں نے سدارامیا سے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ کر ملاقات کی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ آئندہ14فروری سے شروع ہورہے بجٹ سیشن میں بومئی حکومت کو گھیرنے کے لئے سدارامیا کبنی کے دورہ میں واپس آنے کے بعد تیاری شروع کردی ہے۔ اس درمیان یہ بھی خبریں سیاسی حلقوں میں گشت کررہی ہیں کہ ظاہری طور پر سدارامیا اور کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار متحد نظر آتے ہیں لیکن اندرونی طور پر دونوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔شیوکمارنے جب سے کے پی سی سی صدر کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے پارٹی میں سدارامیا کو کمزور کرنے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جارہاہے جس کی وجہ سے سدارامیا کانگریس سے اکتا گئے ہیں۔
حال ہی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی بسون گوڈا پاٹل یتنال نے یہ کھلا بیان دیا تھا کہ بہت جلد سدارامیا کانگریس چھوڑ دیں گے اور سابق وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا سے ہاتھ ملاکر ریاستی اسمبلی سے قبل ایک نئی پارٹی تشکیل دیں گے۔یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے ہی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور لیڈروں نے تبصرے شروع کردئے ہیں۔کیا واقعی سدارامیا ایڈی یورپا سے ہاتھ ملالیں گے؟ حالانکہ سدارامیا کے طرفداروں نے ایسی تجویز کو یکسر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارے لیڈر سدارامیا کا ایڈی یورپا سے ہاتھ ملانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اپنی پارٹیوں سے ناراض ہو کر سابق وزیراعلیٰ ایس بنگارپا نے کے سی پی، سابق وزیراعلیٰ ایڈی یورپا نے کے جے پی، صنعت کار وجئے سنکیشور نے کنڑا ناڈو پارٹی، وجئے ملیا نے جنتا پارٹی سابق وزیراعلیٰ رام کرشنا ہیگڈے نے لوک شکتی پارٹی اور سابق وزیراعلیٰ دیوراج ارس نے کرانتی رنگا پارٹی کا ناکام تجربہ کر چکے ہیں۔اس وقت سدارامیا75 برس کے اور ایڈی یورپا80برس کے ہیں۔دونوں کی عمریں آرام کرنے کی ہے۔ ایسے میں جبکہ ریاست کے عوام بالخصوص مسلمان موجودہ سیاسی پارٹیوں سے اکتا چکے ہیں، اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ دونوں قداور لیڈران مل کر اگر کسی نئی پارٹی کا اعلان کرتے ہیں تو اس بار نئی پارٹی کا تجربہ کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔