ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کولکاتہ پولیس کمشنر راجیو کمار کی مدت مکمل

کولکاتہ پولیس کمشنر راجیو کمار کی مدت مکمل

Mon, 18 Feb 2019 23:05:43    S.O. News Service

کولکاتہ، 18 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) شاردا چٹ فنڈ گھوٹالے کی وجہ سے بحث میں آئے کولکاتا کے پولیس کمشنر راجیو کمار کی مدت مکمل ہو گئی ہے، اب ان کی جگہ نئے پولیس کمشنر کی تلاش کی جا رہی ہے۔ ممتا حکومت نے کچھ اور انتظامی ردوبدل کئے ہیں۔

کولکاتہ پولیس کے تحت آنے والی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) اب ایس ٹی ایف بنگال کہی جائے گی۔ جاوید شمیم کو ایس ٹی ایف بنگال کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایس این گپتا کو اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر مقرر کیا گیا ہے۔راجیو کمار کا نام حالیہ دنوں میں تب بحث میں آیا جب شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ معاملے کی تحقیقات کر رہی سی بی آئی کی ٹیم پوچھ گچھ کے لئے کولکاتہ پہنچی تھی لیکن کولکاتہ پولیس نے سی بی آئی کو ان کے گھر میں داخل ہونے سے روک دیا اور سی بی آئی کے تفتیشی افسران کو حراست میں لے لیا، اگرچہ بعد میں وزارت داخلہ کی مداخلت کے بعد پولیس نے سی بی آئی حکام کو چھوڑ دیا۔

ادھر وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے سی بی آئی کے اس ایکشن کے لئے مرکز کی طرف سے وفاقی ڈھانچے پر حملہ قرار دیتے ہوئے دو دن کے دھرنے پر بیٹھ گئیں۔دراصل ممتابنرجی حکومت نے راجیو کمار کو شاردا چٹ فنڈ گھوٹالے کی جانچ کے لئے قائم ایس آئی ٹی کا سربراہ بنایا تھا۔ سی بی آئی کا الزام تھا کہ راجیو کمار نے گھوٹالے سے منسلک ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر گھوٹالے کی جانچ کر رہی سی بی آئی نے راجیو کمار پر عدالت کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، جس پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے میگھالیہ کے دارالحکومت شیلانگ میں سی بی آئی کو راجیو کمار سے پوچھ گچھ کی اجازت کی تھی لیکن کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس دوران سی بی آئی راجیو کمار کو گرفتار نہیں کرے گی۔جس کے بعد سی بی آئی کی ٹیم نے شیلانگ میں راجیو کمار سے 5 دنوں میں کچھ 34 گھنٹے پوچھ گچھ کی۔ اس دوران سی بی آئی نے سابق ٹی ایم سی لیڈر کنال گھوش کو بھی پوچھ گچھ کے لئے شیلانگ بلایا اور دونوں کو آمنے سامنے بٹھا کر پوچھ گچھ کی۔ راجیو کمار اور مغربی بنگال میں یہ بڑا انتظامی ردوبدل الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق لوک سبھا انتخابات سے پہلے طے بتایا جا رہا تھا۔


Share: