بھٹکل 7 مارچ (ایس او نیوز) بھٹکل کے ایک مسافر کی 48 لاکھ مالیت کی ایک گھڑی کیرالہ کے کوزی کوڈ ائرپورٹ میں کسٹم حکام نے اس بات کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے توڑ ڈالی کہ گھڑی کے اندر سونا چھپایا گیا ہے۔ معاملے کو لے کر بھٹکل کارگیدے کے رہائشی محمد اسماعیل نے کسٹم حکام کے خلاف کالی کٹ پولس تھانہ میں شکایت درج کی ہے ۔ جس کے بعد پتہ چلا ہے کہ کسٹم حکام کے ہوش اُڑ گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ محمد اسماعیل ایک ماہ کی وزٹ ویزا پر دبئی گئے تھے، جہاں ان کے بھائی کا کاروبار ہے۔ 3 مارچ کو جب واپس بھٹکل آنے کے لئے سستی ٹکٹ کے چکر میں کیرالہ کے کوزی کوڈ ائرپورٹ پر اُترے تو کسٹم حکام نے ہاتھ میں بندھی گھڑی کو اُتارنے کے لئے کہا اور شبہ ظاہر کیا کہ وہ گھڑی میں سونا چھپا کر اسمگل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، کسٹم حکام نے گھڑی ایک کمرے میں لے گئے، جہاں غالباً ہتھوڑ ا مار کر گھڑی کے تکڑے تکڑے کردئے ، گھڑی کے اندر کچھ نہیں ملا تو گھڑی کے تکڑے ایک تھالی میں ڈال کر ان کے سامنے پیش کردی گئی، اتنی قیمتی گھڑی کے اتنے تکڑے دیکھ کر محمد اسماعیل انگشت بدنداں رہ گئے اور سوال کیا کہ اتنی قیمتی گھڑی کی کسٹم حکام ایسی دُرگت بناکر کیسے دے سکتے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اُنہیں اُن کی گھڑی درست حالت میں واپس کی جائے۔ پتہ چلا ہے کہ کسٹم کے اعلیٰ حکام کو واقعے کی جانکاری ملتے ہی وہ بھی اتنی قیمتی گھڑی کے تکڑے کرنے پر سکتے میں آگئے۔ معلوم ہوا ہے کہ کسٹم حکام نے معاملے کو رفع دفع کرنے کے لئے دس لاکھ روپئے کی پیش کش کی، مگر محمد اسماعیل نے دبئی سے گھڑی خریدنے کی رسید کسٹم حکام کو دکھائی اور 48 لاکھ روپیہ یا پھر اصلی گھڑی لوٹانے کا مطالبہ کیا۔
واقعے کی جانکاری ملتے ہی کالی کٹ کے ایک سماجی کارکن کے ایم بشیر نے پورے واقعے کو سوشیل میڈیا پر وائرل کردیا اور سوال اُٹھایا کہ بمشکل سو گرام وزنی اس گھڑی میں کوئی سونا چھپا کر اسمگل کیسے کرسکتا ہے ؟ سوشیل میڈیا پر بھوال مچتے ہی کیرالہ کے نیوز چینل بھی حرکت میں آگئے،سوشیل میڈیا پر لوگوں نے سوال کیا ہے کہ گھڑی کے اندر جس کا وزن بمشکل سو گرام ہوگا، کتنا کلو سونا چھپانا ممکن ہے ؟ لوگ کسٹم حکام کی اس حرکت پر نہ صرف تعجب کا اظہار کررہے ہیں بلکہ تشویش بھی ظاہر کررہے ہیں کہ بھلا چھوٹی سی گھڑی کے اندر سونا اسمگل کرنا ممکن بھی ہے ؟ کے ایم بشیر کے فیس بُک پوسٹ کو اب تک قریب دس لاکھ لوگ دیکھ چکے ہیں، 19 ہزار لوگوں نے شئیر کیا ہے جبکہ دو ہزار کے قریب لوگوں نے اپنے تاثرات پوسٹ کئے ہیں۔
پتہ چلا ہے کہ اسماعیل کو وہ گھڑی دبئی میں مقیم ان کے بھائی ابراہیم نے دی تھی، جنہوں نے 2017 میں سکینڈ ہینڈ مارکٹ سے 2,26,000 درہم (تقریبا 48 لاکھ روپئے) میں خریدی تھی، تین چار سال تک بھائی ابراہیم نے گھڑی کو استعمال کیا، پھر جب اسماعیل واپس بھٹکل جانے کے لئے روانہ ہورہا تھا تو گھڑی کو اسماعیل کے حوالے کردیا، چونکہ استعمال شدہ گھڑی پر کوئی ڈیوٹی بھی نہیں لگتی، کسٹم حکام نے سونا چھپانے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے گھڑی کو ہی توڑ دیا۔
اس ضمن میں اسماعیل کے بھائی ابراہیم نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے کہ جب کسٹم حکام ان کے بھائی کے ہاتھ سے گھڑی اُتار کر اندر کمرے میں لے گئے تھے تو ممکن ہے کہ انہوں نے وہ گھڑی اندر رکھ دی ہو اور دوسری ٹوٹی ہوئی گھڑی ٹرائی میں ڈال کر پیش کی ہو، کیونکہ گھڑی کو ان کے بھائی اسماعیل کے سامنے نہیں توڑا گیا تھا۔ AUDEMARS PIGUET نامی اس گھڑی کی اصلی قیمت 60 لاکھ سے بھی زیادہ ہے، چونکہ انہوں نے سکینڈ ہینڈ گھڑی خریدی تھی، اس لئے انہیں یہ گھڑی قریب 48 لاکھ روپئےقیمت میں ملی تھی، انہوں نے اخباری نمائندوں کو گھڑی کی رسید بھی دکھائی جس پر 2017 کی تاریخ درج ہے۔
ابراہیم نے بتایا کہ واقعے کو لے کر کالی کٹ پولس تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا ہے ۔