منڈیا،27؍ مارچ ( ایس او نیوز) منڈیا کی آزاد امیدوار سومالتا امبریش کو اب آنے والے عام انتخابات میں جہاں وزیراعلیٰ کماراسوامی کے فرزند نکھل کماراسوامی سے سخت مقابلہ کرنا ہوگا، وہیں اُنہیں اپنے ووٹروں کو اپنی صحیح شناخت بھی بتانا ہوگا کہ 18مارچ کو ہونے والے انتخابات میں ووٹرس اخر کس طرح اُنہیں ووٹ کریں، کیونکہ اُن کے سامنے صرف ایک نکھل کمار سوامی نہیں ہیں جبکہ ان ہی کے نام لیوا تین تین سومالتا انتخابات میں مدمقابل پر آگئی ہیں۔
کنڑا کے معروف فلم ایکٹر امبریش جن کا قریب چار ماہ قبل انتقال ہوچکا ہے، اُن کی اہلیہ سومالتا بھی منڈیا میں کافی معروف ہیں ، اس لئے ان کو شکست دینے وزیر اعلیٰ کمار سوامی مبینہ طور پر جہاں ہر طریقے کے سیاسی ہتکھنڈے اپنارہے ہیں، وہیں ایسے پلان بھی بنارہے ہیں جس سے سومالتا کو جانے والے ووٹ تقسیم ہوجائیں۔
اب سومالتا امبریش کی طرح آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے تین مزید سومالتا بھی میدان میں آگئی ہیں جن کے نام سومالتا درشن، سومالتا منجے گوڈا اور سومالتا سدّے گوڈا ہیں۔فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ ان تینوں کا تعلق کس سیاسی پارٹی سے ہے یا کون ان کی پشت پناہی کررہے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ سومالتا امبریش بھی نکھل کماراسوامی کو شکست دینے الیکشن کمیشن سے اپنے لئے گنے کا بنڈا اٹھائی ہوئی عورت کا نشان مانگا ہے۔ کیونکہ جے ڈی ایس کا انتخابی نشان گھاس کا بنڈا اٹھائی ہوئی عورت ہے ، جس کے نشان پر نکھل کماراسوامی انتخابات لڑیں گے۔خبر ملی ہے کہ دیگرتین سومالتا نے بھی الیکشن کمیشن سے اسی طرح کے ملتے جلتے انتخابی نشان اپنے لئے بھی مانگیں ہیں۔