ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کنداپورمیں کانگریس کا عوامی جلسہ؛ بی کے ہری پرساد نے کہا : بی جےپی بدعنوانی میں ڈوبی ہوئی ہے اوربی جے پی کاسب سے بڑا ہتھیار جھوٹ ہے

کنداپورمیں کانگریس کا عوامی جلسہ؛ بی کے ہری پرساد نے کہا : بی جےپی بدعنوانی میں ڈوبی ہوئی ہے اوربی جے پی کاسب سے بڑا ہتھیار جھوٹ ہے

Mon, 20 Feb 2023 18:33:28    S.O. News Service

کنداپور:20؍ فروری (ایس اؤ نیوز )بی جےپی کبھی بھی ترقی کے متعلق بات نہیں کرے گی ، اس کا اہم ایجنڈا دھرم اور ذات ہے۔ جھوٹ ہی بی جےپی کا سب سےبڑا ہتھیار ہے۔ ریاستی حکومت مکمل طورپربد عنوانی اور رشوت خوری میں ڈوب چکی ہے اور اسی کی تعریف کررہی ہے۔ان خیالات کا اظہار  کانگریس لیڈراور  حزب مخالف لیڈر بی کے ہری پرساد نے کیا۔

کنداپور تعلقہ کے ونڈسے میں منعقدہ  کانگریس کاکروالی پرجادھونی پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے  بی کے ہری پرساد نے  کہا کہ  بی جےپی کے ممبران اس حد تک تعریف کرتےہیں کہ جب ان کی پارٹی کے ممبران بدعنوانی کے کیس میں جیل سے باہر آتے ہیں تو وہ جیت کا جشن مناتےہیں۔ ریاستی حکومت ان معاملات کو یکساں نظریہ سے دیکھنےکےبجائے دستور کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ آج بی جےپی حب الوطنی کا نہیں بلکہ حسد کاپر چار کررہی ہے۔

انہوں نے بی جے پی کی مرکزی قیادت پر کڑی تنقید کرتےہوئےکہاکہ جب انتخابات قریب آتےہیں تو وزیر اعظم مودی، امیت شاہ، جے پی نڈا سمیت سبھی لیڈران ساحلی پٹی کا دورہ کرتےہیں۔ اور جب یہاں سمندری کٹاؤ ہوتاہے، سیلاب آتاہے، بارش سے عوام اور شہر متاثر ہوتےہیں ، نقصان ہوتاہے  تو اس طرف توجہ تک نہیں دیتے ، انہوں نے عوام  سے اپیل کی کہ وہ ان معاملات اور رویے کی طرف توجہ دیں۔

آج ریاست بھر میں 40فی صدکمیشن پھیلا ہواہے۔ کانٹراکٹرس اسوسی ایشن نے ڈیڑھ سال قبل ہی وزیر اعظم کو خط لکھتےہوئے تعاون کی اپیل کی تھی ۔ آج تک اس کا جواب  نہیں ملا ہے ، انہی معاملات کو لےکر شکو ک وشبہات جنم لیتے ہیں۔ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو حکومت سب سے پہلے عام عوام کےمسائل پر توجہ دے گی ۔ کانگریس نے اپنے منثور میں  صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات پر زور دیا ہے۔ آزاد ہندوستان کی دولت سب پر یکساں تقسیم ہو۔ ملک کادھن دولت صرف 10لوگوں میں تقسیم نہیں ہونی چاہئے

ونڈسے_1.jpg سابق رکن اسمبلی گوپال پجاری نے کہاکہ گذشتہ انتخابات کے موقع پر  ہوناور میں پریش میستا کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے بی جے پی  نے جیت درج کی ہے۔ اسی طرح خود ان کی پارٹی کے کارکن اُدئیے گانیگا کے کیس کو بھی بند کرنےکی کوشش کی ہے جس کو خود انہی کی پارٹی کے گرام پنچایت صدر نے قتل کیاتھا۔ انہوں نے بی جےپی سے سوال کیا کہ قتل کےمختلف واقعات میں مقتولوں کو 25لاکھ روپئے کا معاوضہ دینے والی حکومت ، اپنی ہی پارٹی کے کارکنوں کی موت پر انصاف کیوں نہیں کرتی ؟ بی جےپی نے کئی سارے وعدے کئےتھے۔ ندیوں کو جوڑنےکا معاملہ کیا ہوا؟، میڈیکل اور انجنئیرنگ کالج کا کیا ہوا؟، بیندور کے سرکاری اسپتال کو 100بیڈ اسپتال بنانےکی ترقی کہاں رکی ہوئی ہے؟، اتی کرم ، سکرم میٹنگوں کا کیا ہوا؟ ، 94سی کے تحت کتنےلوگوں کو زمین کا پٹہ دیاگیا ہے؟،پینے کے پانی کا کیا ہوا؟، جب بیندور میں بس اسٹانڈ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا تھا تو بی جےپی نے کہاتھا کہ متعلقہ جگہ پر موجود تالاب سے پرندے پانی پیتے ہیں ۔ اس کے بعد خود انہی کےرکن اسمبلی نے اسی جگہ پر بس اسٹانڈ کے تعمیر کی سنگ بنیاد رکھی ۔ ایسے کئی منصوبہ جات ہیں جو کانگریس کے دور میں منظور ہوئےتھے اسی کو جاری رکھا گیا ہے۔ بی جےپی نے رتی برابر ترقی کاکام نہیں کیا ہے۔

ایم ایل سی منجوناتھ بھنڈاری نے پرجادھونی یاترا کی غرض و غایت بیان کی اور انہوں نے عوام سے کہاکہ وہ بی جےپی کے ارکا ن اسمبلی سےپوچھیں کہ جب نصابی کتب سے نارائن گرو کا سبق نکالا گیا تو وہ کیو ں خاموش تھے۔ عام عوام کو اپنی پہنچ سے دور رکھنا ہی بیندور کےایم ایل اے کا سب سے بڑا کارنامہ ہونےکا الزام لگایا۔ اس موقع پر سابق وزیر ونئےکمار سورکے ، ایم اے غفور، راجو پجاری، رگھو رام شٹی ، پرکاش چندر شٹی ، مدن کمار، اُدئیے پجاری  وغیرہ موجود تھے۔ اس موقع پر کئی بی جےپی اور جے ڈی ایس کے لوگوں نےکانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ ونڈسے بلاک کانگریس صدر پردیپ کمار شٹی نے استقبال کیا تو ونڈسے گرام پنچایت صدر اُدئیے کمار شٹی نے شکریہ کلمات ادا کئے۔ سنیتا شٹی نے نظامت کےفرائض انجام دئیے۔


Share: