بنگلورو8/جولائی (ایس او نیوز) انڈین ایکسپریس ڈاٹ کام میں شائع ایک خبر کے مطابق کنڑا کے ادیب اور دانشور ایم ایم کلبرگی کوقتل کرنے سے پہلے مشتبہ قاتلوں کو جنوبی کینرا کے دھرمستھلاکے پاس واقع ربڑ کے ایک باغ میں تربیت دی گئی تھی اور یہ باغ منگلورو کے تاجر آنند کامتھ کی ملکیت ہے۔اور اس بات کا انکشاف پولیس تحقیقات کے دوران ایک ملزم کے بیان سے ہوا ہے۔
خیال رہے کہ 30اگست 2015کو ایم ایم کلبرگی کو دھارواڑ میں واقع انہیں کی رہائش گاہ پر گولی مارکر ہلاک کردیا گیا تھا۔اس ضمن میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کئی ملزمین کو گرفتارکرچکی ہے۔ ابھی 31مئی کو ایس آئی ٹی نے پروین پرکاش چٹور(27سال) نامی ایک مشتبہ ملزم کو گرفتارکیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ تفتیش کے دوران اسی ملزم نے مذکورہ ربڑ باغ کی نشاندہی کی اور پولیس کواپنے ساتھ وہاں لے جاکروہ مقام دکھایا جہاں پر ان قاتلوں کو آخری بار تربیت دی گئی تھی۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق پولیس ذرائع سے معلوام ہوا ہے کہ ملزم جس باغ کی نشاندہی کررہا ہے وہ آنند کامتھ کی ملکیت ہے اوران کے رابطے ہندوجاگرن سمیتی اور سناتن سنستھا کے ساتھ ہیں۔آنند کامتھ منگلورو کے کے ایم کے گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔اتفاق سے گوری لنکیش قتل معاملے کی تحقیقات کے دوران بھی کامتھ کا سامنے آیا تھا۔اور بتایا گیا تھا کہ گوری لنکیش کو قتل کرنے سے پہلے ان کے گھر کے آس پاس گھوم پھر کردوچار دنوں تک جائزہ لینے کے لئے مشتبہ قاتلوں نے کامتھ کی ملکیت والی موٹر گاڑی استعمال کی تھی اور اس بات کا انکشاف بھی گرفتار کیے گئے ایک ملزم نے ہی کیا ہے۔لیکن ایس آئی ٹی نے کامتھ سے تفتیش کرنے کے دوران ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں کی تھی، اور انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔
ربڑ کے باغ میں قاتلوں کو تربیت دینے کے سلسلے میں جب بات سامنے آئی ہے تومبینہ طور پر آنند کامتھ نے بتایاہے کہ ”یہ بات میرے علم میں نہیں آئی تھی۔ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں نے اس کی اجازت نہیں دی ہوتی۔ یہ باغ (ایسٹیٹ) کیرالہ کے ایک گروپ کو لیز پر دیا گیا ہے۔ اس بارے میں کسی قسم کی تحقیقات چلنے کی بات بھی مجھے معلوم نہیں ہے۔“البتہ کے ایم کے گروپ کے ویب سائٹ پر یہ بات درج ہے کہ مذکورہ ربڑ باغ اس گروپ کی ملکیت ہے اور منگلورو سے 50کیلو میٹر کی دوری پر دھرمستھلا میں موجود ہے۔